| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر میں بھیجا تو لوگ پھر گئے پورا پھرنا ۱؎ پھر ہم مدینہ پہنچے تو وہاں چھپ گئے اور ہم نے سوچا کہ ہم تو ہلاک ہوگئے ۲؎ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم تو بھگوڑے ہیں۳؎ فرمایا بلکہ تم پلٹنے والے ہو اور میں تمہاری پناہ ہوں۴؎ ترمذی اور ابوداؤد کی روایت میں اس کی مثل ہے اور فرمایا نہیں بلکہ تم پلٹا لینے والے ہو فرماتے ہیں تو ہم قریب ہوئے ہم نے حضور کے ہاتھ چومے ۵؎ پھر فرمایا میں مسلمانوں کی پناہ ہوں ۶؎ اور ہم امیہ ابن عبداﷲ کی حدیث کہ کان لیستفتح اور ابوالدرداء کی حدیث کہ مجھے اپنے کمزوروں میں ڈھونڈو۔ان شاءاﷲ باب فضل فقراء میں بیان کریں گے ۷؎
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں ناس سے مراد یہ ہی مجاہد غازی صحابہ ہیں اور حیص کے معنی ہیں میدان جنگ سے واپس آجانا بغیر کامیاب ہوئے اور ہوسکتا ہے کہ ناس سے مراد کفار ہوں اور حیص کے معنی ہوں ان کا مسلمانوں پر پلٹ پلٹ کر حملہ کرنا۔بہرحال حیص کے معنی ہیں پھرنا،مائل ہونا یا کسی سے مائل ہونا۔مقصد یہ ہے کہ ہم اس جنگ میں فتح حاصل نہ کرسکے۔کفار کے سخت حملہ کی وجہ سے بغیر جنگ جیتے واپس ہوگئے۔ ۲؎ یہ حضرات سمجھے یہ تھے کہ جہاد سے بھاگ جانا مطلقًا گناہ کبیرہ ہے خواہ بزدلی کی وجہ سے ہو یا سخت مجبوری کی وجہ سے حالانکہ مجبورًا بھاگنا گناہ صغیرہ بھی نہیں۔ایسی شدت میں جان دے دینا افضل ہے،جان بچاکر بھاگ جانا گناہ نہیں۔اس خیال سے یہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضری کی ہمت نہ کرسکے شرمندگی کی وجہ سے۔خیال رہے کہ یہ شرمندگی رب کو بڑی پیاری ہے۔ ۳؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان حضرات سے مدینہ منورہ پہنچنے کا دن اور اتنے روز تک حاضر بارگاہ نہ ہونے کا سبب پوچھا ہوگا تب ان حضرات نے یہ عرض کیا کہ ہم کس منہ سے حضور کے سامنے آتے ہم کرکے ہی کیا آئے تھے۔مسلمانوں خیال رکھو کہ ہم کو بھی قبر و حشر میں اﷲ رسول کے سامنے پیش ہونا ہے ہم بھلا کس منہ سے وہاں جائیں گے ہم نے کیا کیا ہے۔اللہ تعالٰی بے ڈھنگوں بے رنگوں کی لاج رکھے بے پوچھے ہی بخشے۔شعر صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے میرا حساب بخش بے پوچھے میرے سارے گناہ اے کردگار ۴؎ عکار بنا ہے عکر سے بمعنی پلٹ پلٹ کر حملہ کرنا۔عکار مبالغہ ہے جیسے کرارفئۃ لشکر کا وہ حصہ یا وہ سردار جس کی طرف پناہ لی جائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ"۔مطلب یہ ہے کہ تم بھگوڑے نہیں بلکہ کفار پر پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والے شیر ہو،تمہارا میرے پاس آنا بھگوڑا پن نہیں ہے بلکہ اپنی پناہ کے پاس آنا ہے تاکہ پھر تازہ دم ہوکر دوبارہ کفار پر حملہ کرو۔میں تمہاری پناہ،تمہاری قوت، تمہاری طاقت ہوں۔شعر مجھ سے بے بس کی طاقت پہ دائم درود مجھ سے بے بس کی قوت پہ لاکھوں سلام اگرشکار کی طرف سے شیر پلٹ جائے تو بزدلی کے لیے نہیں پلٹتا بلکہ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے پلٹا کھاتا ہے،تم شیر ہو میں تمہاری پناہ۔یا رسول اللہ ہم گناہگاروں پر ایسے ہی الطاف کریمانہ فرمانا،آپ کے سوا ہماری کوئی پناہ نہیں۔شعر یارسول اﷲ بدر گاہت پناہ آوردہ ام ہمچوکا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام ۵؎ یہ سمجھ کر کہ ہم کیا سمجھے تھے اور حضور نے کیا بشارت دی۔ہم ہم ہیں وہ وہ ہی ہیں۔اس کرم کو دیکھ کر ہم بے ساختہ حضور کے ہاتھوں پر ٹوٹ پڑے جن ہاتھوں کا سہارا دونوں جہان کو ہے۔اللھم صلی علی سیدنا محمد والہ واصحابہ وبارك وسلم۔ ۶؎ یعنی فئۃ یعنی پناہ مطلق ہے جس سے عموم حاصل ہوا یعنی میں اپنی امت کی پناہ ہوں ہر مصیبت میں کوئی مصیبت پڑے میری پناہ لیں،دین و دنیا کی آفت و بلا میں حضور سہارا ہیں۔حضور پناہ ہیں تاقیامت ہرمسلمان کی۔شعر کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ تم کہو دامن میں آتم پہ کروڑوں درود ۷؎ یعنی وہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں۔ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے علیٰحدہ علیٰحدہ ان دو بابوں میں ذکر کی ہیں۔