Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
813 - 1040
حدیث نمبر813
روایت ہے سعید ابن ہند سے ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ تو اونٹ شیطانوں کے ہوں گے اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوں گے ۲؎ لیکن شیطانوں کے اونٹ وہ تو میں نے دیکھ لیے۳؎ کہ تم میں سے کوئی اپنے ساتھ اعلیٰ اونٹنیاں لےکر نکلتا ہے۴؎ جنہیں موٹا کیا ہوتا ہے تو ان  میں سےکسی اونٹ پر سوار نہیں ہوتا اور اپنے بھائی پر گزرتا ہے جو عاجز رہ گیا ہے تو اسے سوار نہیں کرتا ۵؎ لیکن شیطانوں والے گھر تو وہ میں نے نہ دیکھے ہیں ۶؎ حضرت سعید کہتے تھے کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ ہیں پنجرے جنہیں لوگ ریشم سے ڈھکتے ہیں ۷؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،حضرت سمرہ ا بن جندب صحابی کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ابوہریرہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کیں اور آپ سے آپ کے بیٹے حضرت عبداﷲ ابن سعید اور نافع ابن عمرجحمی وغیرہم نے روایات کیں،ثقہ ہیں عالم ہیں۔

۲؎  جو اونٹ یا گھر ضرورت سے زیادہ رکھے جائیں اور ان سے کوئی دینی کام نہ لیا جائے صرف نام ونمود ہی مقصود ہو وہ شیطانی اونٹ اور گھر ہیں جیسے بعض چوہدری اپنی بڑائی دکھانے کے لیے بلاضرورت جانور گھوڑے مکانات رکھتے ہیں،ہم نے بعض امیروں کے ایسے مکانات دیکھے جو نہایت عالیشان ہیں مگر ویران پڑے ہیں نہ ان میں خود رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے کے لیے دیتے ہیں،حتی کہ بلاضرورت مسجدیں بنا دینا جو ویران پڑی رہیں صرف زمین گھیر دی جائے وہ بھی ممنوع ہیں،ہم نے سنا ہے کہ انور ضلع بریلی چھوٹی سی بستی میں لوگوں نے ضد یا فخر کے لیے اٹھارہ سو مسجدیں بنادیں ہیں سوا چند کے باقی سب ویران پڑی ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ مال حرام سے جو گھوڑے یاگھر خریدے جائیں وہ شیطانی ہیں مگر پہلی تفسیر زیادہ قوی ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس فرمان عالی میں وہ غیبی خبر ہے کہ آئندہ مسلمان ایسی حرکتیں کیا کریں گے واقعی یہ دونوں چیزیں دیکھی جارہی ہیں۔

۳؎ یعنی زمانہ نبوی میں یہ دونوں چیزیں نہ تھیں حضور انور نے غیبی خبر دی تھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد میں نے شیطانی اونٹ تو اپنی آنکھوں دیکھ لیے یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے۔

۴؎ نجیبات جمع ہے نجیبۃ کی جو نجابت بمعنی شرافت سے بنا ہے،نجیب اونٹ وہ ہے جو بہت قوی ہو رفتار میں ہلکا و سبک ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے امیر لوگ سفرمیں اپنے ساتھ بہت سے گھوڑے خچر اونٹ لے کر سفرکرتے تھے جن میں سے بعض پر سواری و باربرداری کرتے تھے اور اکثر خالی چلتے تھے صرف شان ظاہر کرنے کہ لوگ یہ خالی جانور دیکھیں کہ یہ بڑ ا آدمی ہے جیساکہ نجیبات جمع فرمانے سے معلوم ہوا،یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑے لوگ اپنے ان جانوروں کو خوب موٹا تازہ کرتے تھے تاکہ ان کی موٹائی تروتازگی ان لوگوں کی مالداری کی علامت ہو۔آج بھی بعض امیر لوگ خوب موٹے تازے کتے اپنے ساتھ رکھتے ہیں جب گھر سے نکلتے ہیں تو کتوں کے جھرمٹ میں نکلتے ہیں اسے اپنی امیری کا نشان سمجھتے ہیں یہ اسی زمانہ جاہلیت کی رسم ہے۔نعوذ بالله!

۵؎ یعنی ان فالتو جانوروں کی اسے خود تو ضرورت ہے نہیں اور ضرورت مند مسافروں کو بھی نہیں دیتا۔وہ مسکین مسافر پیدل سفرکرتے ہیں اور اس کے یہ فالتو جانور خالی چلتے ہیں،آج امیر چوہدری کے کتے دودھ ملائی کھاتے ہیں اور غریب پڑوسی مسلمانوں کو پیٹ بھر روٹی نہیں ملتی یہ بھی اسی زمانہ کی نقل ہے اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو اپنے حبیب کا نقّال بنالے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ ہم نے اس سے بدتر لوگ دیکھ لیے کہ مالداروں کے ساتھ سفر میں فالتو جانور خالی چلتے ہیں اور غریب پیادہ مسافروں کو دیکھ کر یہ فرعونی لوگ مذاق اڑاتے ہیں بہت دفعہ ان غریب مسافروں سے بوجھ اٹھواتے ہیں جانور خالی چلاتے ہیں۔

۶؎ یہاں تک حضرت ابوہریرہ کا قول ہے یعنی ہم نے زمانہ صحابہ میں شیطانی فالتو گھر نہیں دیکھے مگر آئندہ ہوں گے ضرورکیونکہ مخبرصادق محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردی ہے اور ممکن ہے کہ کلام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہی ہو یعنی ہم نے شیطانی جانور تو بچشم خود ملاحظہ فرمائے جو کفار کے پاس ہیں مگر شیطانی گھر ہمارے بعد ہوں گے کہ کفار تو درکنار مسلمان چوہدری نمبردار بھی رکھا کریں گے۔

۷؎ اقضاض جمع ہے قضض کی بمعنی پنجرہ جس میں پرندہ قید رکھا جاتا ہے اس سے مراد یا تو اونٹوں کے محمل ہودج ہیں جو امیر لوگ سفر میں استعمال کرتے ہیں سواری کے جانوروں پر یا خالی فالتو جانوروں پر اوریا ان کے رہنے کے مکانات ہیں جنہیں وہ لوگ ریشم وغیرہ سے سجاتے تھے۔غالبًا یہ خبر زمانہ تابعین میں ظاہر ہوئی جو حضرت سعید ابن ہند نے دیکھی۔
Flag Counter