۱؎ کیونکہ بغیر اطلاع اچانک رات میں مسافر کا گھر پہنچنا گھر والوں کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور اس زمانہ میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے اب تو خط،تار ٹیلی فون وغیرہ سے خبر دی جاسکتی ہے۔یطرق بنا ہے طرق سے بمعنی دروازہ بجانا کواڑ کھڑکانا،چونکہ رات میں آنے پر اس کھڑکانے کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے رات میں آنے والے مسافر کو طارق کہتے ہیں ستارہ کو بھی طارق کہا جاتا ہے کہ وہ رات میں ہی چمکتا ہے۔ (مرقات)
۲؎ صبح صادق سے زوال تک کا وقت غدوہ ہے اور زوال سے سورج ڈوبتے تک کا وقت عشیہ یعنی حضور کی مدینہ منورہ میں آمد یا صبح کے وقت ہوتی تھی یا بعد ظہر۔