| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ شریف میں عربی کمان تھی ۱؎ تو ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں فارسی کی کمان ہے ۲؎ فرمایا یہ کیا ہے اسے پھینک دو اور اسے ان جیسی چیزوں کو اختیار کرو ۳؎ اور کامل ہے نیزہ۴؎ یہ ہیں وہ چیزیں کہ اللہ تعالٰی ان کے ذریعے دین کو قوت دے گا اور تم کو شہروں میں قبضہ دے گا ۵؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی ملک عرب کی بنی ہوئی عربی گھوڑا بمعنی تلوار عربی کمانیں بہت اعلیٰ درجہ کی ہوتی تھیں۔ ۲؎ فارسی کمان سے مراد عجمی کمان ہے۔عرب کے پانچ صوبوں کا نام ہے حجاز،عراق،نجد،یمن،بحرین ان پانچ صوبوں کے سوا تمام ممالک عجم ہیں۔ ۳؎ یعنی عربی تلواریں،عربی ڈھالیں،عربی سامان جنگ استعمال کرو کہ یہ اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں۔ ۴؎ قنا جمع ہے قناۃ کی بمعنی نیزہ اور رماح کے معنی بھی ہیں نیزہ،تو یہ اضافت اپنی نفس کی طرف ہے جس سے کمال کے معنی پیدا ہوئے جیسا کہا جاتا ہے یہ مردوں کا مرد ہے یعنی کامل و بہادر مرد ہے ایسے اس کے معنی ہوئے نیزوں کا نیزہ کامل نیزہ اس سے مراد عربی نیزہ ہے۔ ۵؎ یعنی ان شاءالله تم لوگ عربی ہتھیاروں کے ذریعہ بہت سے ملک فتح کرو گے،حضور کا یہ وعدہ سچا ہوا کہ صحابہ کرام نے ان ہی تلواروں،تیروں کمانوں کے ذریعہ قیصروکسریٰ کے ملک فتح کیے شام و روم وغیرہ پر قبضے کیے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سواء عربی نیزوں وتلواروں کے کبھی کسی کا کوئی ہتھیار نہ استعمال کرنا یہ حکم اسی زمانہ کے لیے ہے۔