Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
765 - 1040
حدیث نمبر765
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا ۱؎ وہ کبھی دوڑ میں پیچھے نہ رہتی تھی ۲؎  ایک بدوی اپنے چھوٹے اونٹ پر آیا ۳؎ تو وہ اس سے آگے نکل گیا یہ مسلمانوں پر گراں گزارا ۴؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ کے ذمہ قدرت پر لازم ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اونچی نہ جائے مگر اسے کبھی پست فرمائے ۵؎(بخاری)
شرح
۱؎ عضباء عین کے فتحہ ضاد کے سکون سے بمعنی کان کٹی یا کان چری اس اونٹنی کے کان کاٹے یا چیرے نہ گئے تھے بلکہ وہ پیدائشی ایسی ہی تھی یا تو یہ وہ ہی اونٹنی تھی جس کا نام قصواء تھا تو اس کا نام قصواء اور لقب عضباء تھا یا یہ دوسری اونٹنی ہے قصواء اور تھی۔والله اعلم!

۲؎ یعنی ایسی تیز رفتار تھی کہ دوڑ میں کسی اونٹ سے کبھی پیچھے نہ رہی تھی۔

۳؎  قعود کے معنی ہیں بیٹھنا،اصطلاحًا قعود اس اونٹ کو کہتے ہیں جو سواری کے لائق ہوجائے کہ اس پر سوار بیٹھ سکے دو سال کی عمر سے لے کر چھ سال کی عمر تک اونٹ قعود کہلاتا ہے پھر اسے جمل کہا جاتا ہے اونٹ کی عمروں کے بہت نام ہیں۔

۴؎  یہ ناگواری اور طبیعت پرگرانی طبعی تھی کہ صحابہ کرام کو یہ پسند نہ تھا کہ کوئی اونٹ ہمارے نبی کے اونٹ سے آگے نکل جائے۔

۵؎ یعنی اللہ تعالٰی کی عادت کریمہ یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں ہمیشہ سب سے اونچی رہتی ہو اسے کبھی کسی سے نیچا بھی کرادے تاکہ فخر ٹوٹ جائے رب تعالٰی کی کبریائی پر نظر رہے اسی قانون کے مطابق یہ اونٹنی آج پیچھے رہ گئی اس پر رنج نہ کرو۔
Flag Counter