| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت مسروق سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نے عبداﷲ ابن مسعود سے اس آیت کے متعلق پوچھا کہ اﷲ کی راہ میں مقتولوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں،الخ ۲؎ فرمایا ہم نے اس کے متعلق پوچھا۳؎ تو فرمایا ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں۴؎ ان کے لیے عرش میں قندیلیں لٹک رہی ہیں۵؎ جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ۶؎ پھر ان کی طرف ان کا رب متوجہ ہوتا ہے ۷؎ تو فرماتا ہے کیا تم کوئی چیز چاہتے ہو۸؎ وہ عرض کرتے ہیں ہم کیا چیز چاہیں ہم تو جنت میں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں ان کے لیے تین بار یہ سوال کیا جاتاہے ۹؎ جب یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مانگنے سے نہ چھوڑیں جائیں گے تو عرض کرتے ہیں یا رب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دی جائیں ۱۰؎ تاکہ ہم تیری راہ میں دوبارہ قتل کیے جائیں جب رب دیکھتا ہے کہ انہیں کوئی حاجت نہیں تو یہ چھوڑے جاتے ہیں ۱۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ مشہور تابعی ہیں،حضور کی وفات سے پہلے اسلام لائے مگر زیارت نہ کرسکے، خلفائے راشدین،ابن مسعود اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم کی زیارت و صحبت سے شرف حاصل ہوا،حضرت ابن مسعود کے ساتھ اکثر رہے،کثرت نوافل کی وجہ سے پاؤں سوجے رہتے تھے،جب حج کو جاتے تو حرم شریف میں ہی رہتے وہاں ہی سوتے تھے،بچپن میں آپ کو چوری کرلیا گیا تھا اس لیے نام مسروق ہوا،بصرہ کے حاکم رہے،کوفہ میں ۶۲ھ وفات پائی۔ ۲؎ سوال کا مقصد یہ ہے کہ شہداءکی زندگی کے کیا معنی اور انہیں روزی کس طرح دی جاتی ہے وہ تو دفن ہوچکے ان کی میراث تقسیم ہوچکی ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرچکیں،جب ان پر مُردوں کے احکام جاری ہوچکے تو وہ زندہ کیونکر ہیں۔ ۳؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے لہذا یہ حدیث مرفوع ہے،(مرقات،اشعہ،نووی،شرح مسلم)کیونکہ ظاہر یہ ہی ہے کہ حضرت ابن مسعود نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ہی دریافت کیا۔ ۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی ان روحوں کے لیے ان کے بدنوں کے قائم مقام اجسام پیدا فرماتا ہے ان اجسام میں یہ روحیں امانۃً رہتی ہیں،یہ اجسام ان روحوں کے اپنے نہیں ہوتے لہذا یہ تناسخ یا اواگون نہیں۔ ۵؎ یعنی شہداء کی روحیں وہاں سیر تو کرتی ہیں اور جنت کے میوے تو کھاتی ہیں مگر حوروں اور وہاں کے مکانات کو استعمال نہیں کرتیں،یہ استعمال تو بعد قیامت ہوسکے گا۔رب تعالٰی نے ان کے لیے دنیاوی پنجروں یا آشیانوں کی طرح نورانی قندیلیں بنا دی ہیں جن میں وہ قیام کرتی ہیں۔ ۶؎ یعنی ہر وقت وہ روحیں جنت میں ہی رہتی ہیں،یہ سیرکرتے وقت بھی اور دوسرے وقت بھی مگر اس کے باوجود ان روحوں کا تعلق ان کی قبور اور مدفون جسموں سے ضرور رہتا ہے جیسے سورج کی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں مگر سورج سے تعلق رکھتی ہیں یا ہمارا نور نظر آسمان کی سیرکر تا ہے مگر آنکھ سے بے تعلق نہیں ہوجاتا ورنہ آنکھ اندھی ہوجاتی،ارواح شہداء کی لطافت تو ان شعاعوں اور نور نظر سے کہیں زیادہ ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض یعنی کہ جب شہداء کی روحیں جنت میں ہیں تو قبورشہداء کی زیارت،انہیں اسلام کرنا بے کار ہوا۔اس حیات کی پوری بحث اس مرآت کے باب الجمعہ میں ملاحظہ فرمائیں،حدیث فبنی العاصی برزق کی شرح میں۔ ۷؎ اطلاع کے معنی ہیں جھانکنا ،چڑھنا مگر یہ معنی رب تعالٰی کے لیے ناممکن ہے اس لیے یہاں اس کے معنی نظر فرمانا، تجلی فرمانا ،توجہ فرمانا مناسب ہیں۔ ۸؎ بعض شہداء سے بے حجابانہ یہ کلام ہوتا ہے اور اکثر سے وراء حجاب،اس عالم میں ان آنکھوں سے رب تعالٰی کا جمال دیکھنا ناممکن ہے،وہ عالم بھی دوسرا ہے اور دیکھنے والی آنکھ بھی دوسری۔ ۹؎ یہ بار بار سوال فرمانا اظہار کرم خاص کے لیے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں حدیث بالکل ظاہر ہے۔ ۱۰؎ یعنی ہم کو کچھ نہ کچھ مانگنا ہی پڑے گا تب وہ جنت کی بقیہ نعمتیں حوروقصور وغیرہ نہیں مانگتے بلکہ پھر ان اجسام میں پہلے کی طرح جانا مانگتے ہیں جس سے انہیں ظاہری زندگی ملے اور پھر وہ جہاد کرکے شہید ہوسکیں۔ خیال رہے کہ یہاں سوال ظاہری زندگی اور شرعی جہاد اور شرعی شہادت کا ہے ورنہ بعض موقعوں پر ارواح شہداء کو میدانِ جہاد میں جہاد کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔چنانچہ ابن قیم نے کتاب الروح میں ص۱۵۳ پر لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم و صدیق اکبر و فاروق اعظم کی روحوں نے بعد وفات کفار کے بڑے لشکر جرار کو بھگا دیا اور مجاہد مسلمانوں کی مدد کی اور وہ مدد بالکل درست تھی۔صبح کو لشکر کفار مقتول تھا اور باقی بھاگ چکا تھا مگر یہ جہاد اور نوعیت کا ہے،نیز اسی کتاب الروح میں ہے کہ حضرت کی روح پاک نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے ایک دورودراز ملک میں پہنچ کر ایک رافضی کو قتل کیا۔ ۱۱؎ خیال رہے کہ رب تعالٰی نے ان روحوں کو دوسری طرف یعنی دوسرے سوالوں کی طرف متوجہ نہ ہونے دیا،ورنہ وہ دیدار الٰہی دیار مصطفوی کی تمنا کرتے بلکہ ان کی توجہ شہادت کی طرف دلائی تاکہ لوگوں کو شہادت اور غزوہ کی اہمیت کا پتہ لگے،یہ بھی خیال رہے کہ اس دنیا میں ناممکن چیز کی دعا کرنا ممنوع ہے مگر وہ تو دنیا ہی دوسری ہے وہاں ناممکن کی دعا کرنا ممنوع نہیں،کہ شہداء دنیا میں واپس آنے کی دعا کرتے ہیں جو ناممکن ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت اور وہاں کی نعمتیں پیدا ہوچکی ہیں۔دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے کوئی شخص جزاوثواب کے لیے جنت میں اس جسم سے نہیں جاسکتا۔تیسرے یہ کہ بعض خوش نصیبوں کو روحانی داخلہ قیامت کے پہلے بھی عطا ہوسکتا ہے ۔چوتھے یہ کہ جنت کے پھل ،ہوا ،دوسری نعمتیں قیامت سے پہلے بعض لوگ استعمال کرتے ہیں مگر وہاں کی حوروں کو ہاتھ نہیں لگا سکتے،حوریں تو بعد قیامت ہی میسر ہوں گی۔دیکھو آدم علیہ السلام کو جنت کے قیام کے زمانہ میں صرف کھانے کی اجازت تھی،اگر حوروں کی اجازت ہوتی تو آپ کو تنہائی کی وحشت نہ ہوتی اور حضرت حوا کی پیدائش کی خواہش نہ پیدا ہوتی۔پانچویں یہ کہ روح کو فنا نہیں موت جسم پر طاری ہوتی ہے کہ اس سے روح علیٰحدہ کردی جاتی ہے۔چھٹے یہ کہ روح کو راحت و تکلیف کا احساس بعدموت رہتا ہے ورنہ برزخ کے ثواب و عذاب کے کیا معنی ؟ساتویں یہ کہ برزخ کا ثواب و عذاب برحق ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا وَ یَوْمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوۡۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ"یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے لیے صریحی نص ہے جس کی تاویل نہیں ہوسکتی، برزخ کے احوال برحق ہیں۔