۱؎ وہ مارا ہوا حق مال ہو یا کوئی اور چیز جیسے حق قذف(تہمت)بیوی کی باری کا حق یا مردار کی کھال یا وہ نجاستیں جو مال نہیں مگر ان کا استعمال جائز ہے،یہ حدیث ان سب حقوق کو شامل ہے۔(مرقات)پھر حق حقیر ہو یا عظیم۔مسلمان کی قید اہتمام ظاہرکرنے کے لیے ہے ورنہ ذمی اور مستامن کافر کا حق مار لینے کی بھی یہ ہی سزا ہے لہذا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ذمی کافر کا حق مارلینا جائز ہے۔فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فدماءھم کدماءنا واموالھم کاموالنا ان کافروں کے خون اور مال مسلمانوں کے خون و مال کی طرح محترم ہیں اس لیے اگر مسلمان ذمی کافر کا مال چوری کرے تو اس کا ہاتھ کٹے گا۔
۲؎ اگر اس مجرم نے یہ کام حلال جان کر کیے تو کافر ہوا اور دائمی جہنم کا حقدار اور اگر حرام سمجھ کر کیا تو ابرار کے ساتھ جنت کا اول داخلہ اس پر حرام ہوگیا،اشرار کے ساتھ اولًا سزا پائے گا پھر ایمان کی برکت سے بخشا جائے گا کیونکہ مسلمان کے لیے دوزخ میں ہمیشگی نہیں۔
۳؎ عرب میں پیلو(وان)بہت معمولی درخت ہے،پھر اس کی شاخ جس کی مسواک ہوتی ہے وہ تو بہت ہی حقیر چیز ہے اس لیے معمولی چیز کو اس سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔