Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
644 - 1040
حدیث نمبر644
روایت ہے حضرت خولہ انصاریہ سے ۱؎  فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بعض لوگ اﷲ کے مال میں ناحق گھس جاتے ہیں۲؎  ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے ۳؎ (بخاری)
شرح
۱؎  خولہ دو ہیں:ایک خولہ بنت ثامر،دوسری خولہ بنت ثعلبہ حضرت اوس ابن صامت کی بیوی،یہاں پہلی خولہ مراد ہیں خولہ بنت ثامر،مرقات کی یہ ہی تحقیق ہے مگر اشعۃ اللمعات نے دوسری خولہ مراد لیں۔واﷲ اعلم!

۲؎  خوض کے لغوی معنی پانی میں گھس جانا،اصطلاح میں کسی باطل کام میں مشغول ہوجانے کو خوض کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"ذَرْہُمْ فِیۡ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُوۡنَ"باب تفعیل میں آکر مبالغہ پیدا ہوگیا۔ اﷲ کے مال سے مراد بیت المال کا مال ہے،زکوۃ،خراج،جزیہ،غنیمت وغیرہ۔ حق سے مراد ہے یا استحقاق یا سلطان اسلام کی اجازت یعنی بیت المال میں ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔

۳؎  ناحق مال کھانے کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔
Flag Counter