۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،حضرت سعد ابن ابی وقاص کے بھانجہ ہیں،خود بھی صحابی ہیں والد بھی صحابی،خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی احادیث روایت کرتے ہیں اپنے والد سے بھی اور حضرت عمر و علی سے بھی رضی اللہ عنہم۔( اشعہ)
۲؎ انواء جمع ہے نوء کی،نوء کے معنی ٹھہرنا بھی ہیں اور گر پڑنا و نکل جانا بھی،اب اصطلاح میں چاند کی منزلوں کو نوء کہتے ہیں،یہ کل اٹھائیس ہیں کیونکہ ہر رات چاند ایک منزل میں رہتا ہے۔اہل عرب سمجھتے تھے کہ بارشیں چاند کی خاص منزلوں میں رہنے سے آتی ہیں اور کہا کرتے تھے کہ بارش فلاں منزل سے ہوئی رب تعالٰی کا نام نہ لیتے تھے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے کفر قرار دیا ہے۔اگر کوئی بارش کو رب تعالٰی کا عطیہ سمجھے اور ان چیزوں کو اسباب یا علامات مانے جانے تو حرج نہیں جیسے بادل کو بارش کی علامت مانا جاتا ہے۔(مرقات)مگر بہتر یہ ہے کہ ایسے الفاظ اچھی نیت سے بھی استعمال نہ کرے جو ایسے معانی کا وہم پیدا کریں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یُنَزِّلُ الْغَیۡثَ"رب جب چاہے بارش بھیجے،اسباب اس کے محتاج ہیں وہ اسباب کا پابند نہیں۔
۳؎ یعنی مجھے اس کا بھی خطرہ ہے کہ میرے بعد بادشاہ ظلم کیا کریں گے اور رعایا بغاوت کیا کرے گی جس سے امن قائم نہ ہوگا اور تقدیر کا انکار کرنے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔قربان جاؤں اس غیوب داں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کہ جو کچھ فرمایا وہ ہوبہو آج تک دیکھنے میں آرہا ہے۔یہ فقیر بہت سے ممالک اسلامیہ میں گیا عراق،کویت،فلسطین،شام،ایران وغیرہ ہر جگہ راعی اور رعایا میں جھگڑے ہی دیکھے،مسلمان کہیں بھی چین سے نہیں ہیں،یہ سب کچھ اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا بتایا ہوا راستہ چھوڑ دیا اﷲ تعالٰی ہم کو پھر بھولا سبق یاد دلادے۔