۱؎ بسر ابن ارطات کا نام عمر عامری ہے،کنیت ابوعبدالرحمن ہے،قرشی ہیں۔حق یہ ہے کہ آپ صحابی نہیں تابعین میں سے ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے دو سال قبل ہے آخر میں دیوانہ ہوگئے تھے،امیر معاویہ یا عبدالملک کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی،بعض شامی علماء نےآپ کا سماع ثابت کیا ہے شاید صاحب مشکوۃ کی یہ روایت شامیوں کے قول پر مبنی ہے کہ فرمارہے ہیں سمعت میں نے حضور سے سنا۔(اشعہ،مرقات،ابن عبدالبر اور مغنی نے بھی آپ کی سماعت کا انکار کیا ہے)
۲؎ اس فرمان عالی کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ بحالت جہاد جب لشکر اسلام کفار کے ملک میں ہو اگر کوئی چوری کرے تو وہاں اس کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں یا تو اس لیے کہ وہاں لشکر میں حاکم اسلام موجود نہیں اور شرعی سزائیں حاکم اسلام ہی دے سکتا ہے لشکر کا کمانڈر حاکم اسلام نہیں یا اس لیے کہ وہاں خطرہ ہے کہ چور ہاتھ کٹنے کے خوف سے مرتد ہوکر کفار سے جا ملے۔دوسرے معنی یہ ہیں جہاد کے مال یعنی غنیمت کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں کیونکہ اس مال میں خود چور کا بھی تو حصہ ہے ایسے مال کی چوری سے ہاتھ نہیں کٹتے،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے،دوسرے امام نماز و روزے کی طرح وہاں دارالحرب میں حد قائم کرنے کا بھی حکم دیتے ہیں مگر وجہ فرق ہم بیان کرچکے ہیں۔
۳؎ مگر سفر سے مراد بھی سفر جہاد ہے عام سفر نہیں۔