۱؎ یا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غیر محصن ہونے کی غلط خبر ملی یا اس زمانہ میں مقدمہ کی زیادہ تحقیقات نہ کی جاتی تھی اس لیے گمان پر کوڑے مارے گئے۔(مرقات)خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالٰی نے علوم غیبیہ بخشے مگرا ن علوم کا ہر وقت حضور نہیں ہوتا کبھی وہ حضرات عالم کے ذرہ ذرہ سے خبردار ہوتے ہیں کبھی اپنے سے بھی بے خبر،شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا۔شعر
گہے برطارم اعلیٰ نشینم گہے برپشت پاء خود نہ بینم
نیز حاکم اپنے علم خصوصی پر کسی کو سزا نہیں دے سکتا،ثبوت شرعی پر سزا دی جاتی ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی سے بجائے رجم کے کوڑے مار دیئے گئے تو یہ کوڑے رجم کے قائم مقام نہ ہوں گے رجم علیحدہ کیا جائے گا لیکن اگر بجائے کوڑوں کے رجم کردیا گیا تو یہ رجم کوڑوں کا نائب ہوجائے گا اور محصن ہونے کی خبر دینے والوں پر اس کی جان کا تاوان ہوگا جیساکہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔