Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
41 - 1040
حدیث نمبر 41
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جناب فاطمہ کے پاس ایسے غلام کے ساتھ تشریف لائے جو آپ انہیں بخش چکے تھے ۱؎ اور جناب فاطمہ پر ایسا کپڑا تھا کہ جب اس سے سر ڈھکتیں تو پاؤں تک نہ پہنچتااور جب اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو آپ کے سر تک نہ پہنچتا اور ۲؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ دشواری دیکھی جو آپ پارہی تھیں تو فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں یہ آنے والے تمہارے والد ہیں اور تمہارے غلام ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ بِعَبْدٍ کی ب مصاحبت کی ہے بمعنی ساتھ،اس غلام کا نام معلوم نہ ہوسکا،حضور نے یہ غلام حضرت فاطمہ کو پہلے ہی دیا تھا،آج دینے کے لیے تشریف نہ لائے تھے جیسا کہ وَھَبَہٗ ماضی سے معلوم ہوا۔

۲؎ یعنی اس وقت آپ کے پاس صرف دوپٹہ یا چادر تھی وہ بھی اتنی چھوٹی جو بیک وقت سرو پاؤں نہیں چھپا سکتی۔

۳؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع اس غلام کے دروازے پر کھڑے تھے داخلہ کی اجازت مانگی جواب میں دیر ہوئی تب تحقیق فرمانے پر جناب فاطمہ کا یہ تکلف معلوم ہوا تب یہ فرمایا۔فرمان عالی کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم تمہارے والد ہیں اور یہ دوسرا تمہارا مملوک غلام ان دونوں سے تمہارا پردہ نہیں سر کھلا رہنے دو اور ہم کو آنے کی اجازت د ے دو۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ جیسے مولیٰ سے لونڈی پر پردہ لازم نہیں ایسے ہی مملوک غلام سے مالکہ پر پردہ واجب نہیں مگر امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک بالغ خادم اپنی مالکہ کیلیے اجنبی مرد کی طرح ہے کہ اس سے پردہ واجب ہے،اگرچہ غلام خصی ہی ہو،امام شافعی کا یہ استدلال کچھ ضعیف سا ہے کیونکہ یہ غلام نابالغ اور غیر محل شہوت تھا،عربی میں غلام نابالغ بچے کو کہتے ہیں،جس پر قرآن مجید و احادیث و لغت کی کتب گواہ ہیں۔خیال رہے کہ نابالغ اور اپنے محرم غلام سے پردہ نہیں اور آیت"مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ"میں امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے ہاں لونڈیاں مراد ہیں۔(از مرقات و اشعہ)خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں بالغ غلام اپنی مولاۃ مالکہ کے لیے اجنبی مرد کی طرح ہے کہ اس کا چہرہ ہاتھ پاؤں ضرورۃً دیکھ سکتا ہے،مگر امام شافعی کے ہاں محرم کی طرح ہے کہ اس کا سر بازو پنڈلی بھی دیکھ سکتا ہے یہاں حضرت فاطمہ کے سر شریف کا ذکر ہے اس لیے وہ اس سے دلیل پکڑتے ہیں۔
Flag Counter