| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو دانستہ قتل کرے تو وہ مقتول کے ولیوں پر پیش کیا جائے گا ۱؎ اگر وہ چاہیں تو قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں وہ دیت تیس حقہ، تیس جزعہ اور چالیس خلفہ ہیں۲؎ اور جس چیز پر وہ صلح کرلیں وہ انہیں کی ہے۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ ولیوں سے مراد وارث قرابت دار ہیں جو دیت لے سکتے ہیں۔ ۲؎ حقہ وہ اونٹنی ہے جو چوتھے سال میں داخل ہوجائے۔جزعہ وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں قدم رکھ لے۔خلفہ حاملہ اونٹنی جو اپنے پیچھے بچہ چھوڑنے والی ہو،یہ کل سو اونٹنیاں ہوئیں بمقابلہ اونٹ کے اونٹنی زیادہ قیمتی ہوتی ہے وہ ہی دیت میں دی جائے گی۔ ۳؎ یعنی اگر اس دیت کے علاوہ کسی اور شئے میں دونوں فریق کی صلح ہوجائے تو وہ دی جائے،یہ دیت ہر قاتل سے لی جائے گی خواہ باپ اپنے بیٹے کو قتل کردے یا مولے اپنے غلام کو،باپ اور مولے پر قصاص نہیں دیت ہے۔امام شافعی و احمد کے ہاں اس حدیث پرعمل ہے کہ دیت کے تین حصے ہوں گے تیس تیس حقہ و جزعہ اور چالیس خلفہ،مگر ہمارے اور امام مالک کے ہاں دیت کے چار حصے ہوں گے پچیس حقہ پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون پچیس بنت مخاض، ہماری دلیل حضرت ابن مسعود کی حدیث موقوف اور ثابت ابن یزید کی حدیث مرفوع ہے جس میں دیت کی یہ ہی تفصیل ہے جو ہم نے عرض کی،ہمارے ہاں یہ حدیث عمرو ابن شعیب صحیح نہیں اس لیے ناقابل عمل ہے۔خیال رہے کہ قتل خطا کی دیت تمام آئمہ کے ہاں قاتل کے عصبہ وارثوں پر واجب ہے خود قاتل پر نہیں۔