| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت محمد ابن منتشر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اﷲ تعالٰی اسے دشمن سے نجات دے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کردے گا۲؎ پھراس نے حضرت ابن عباس سے پوچھا ۳؎ تو آپ نے اس سے فرمایا کہ مسروق سے پوچھو تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے کو ذبح نہ کر کیونکہ اگر تو مؤمن ہے تو تو نے مؤمن جان کو قتل کرلیا ۴؎ اور اگر تو کافر ہے توتو نے دوزخ کی طرف جلدی کی ۵؎ اور تو ایک دنبہ خرید اسے ذبح کر دے فقراء کے لیے کیونکہ حضرت اسحاق تجھ سے بہتر تھے اوران کا فدیہ دنبہ سے دیا گیا ۶؎ اس نے حضرت ابن عباس کو خبر دی آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی تجھے یہ ہی فتویٰ دینا چاہا تھا۷؎(رزین)
شرح
۱؎ آپ تابعی ہیں،ہمدانی ہیں،حضرت مسروق کے بھتیجے،بہت سے صحابہ سے ملاقات ہے جیسے حضرت عمروعائشہ رضی اللہ عنہم۔ ۲؎ یہ عجیب نذر ہے کہ دشمن سے چھٹکارے کی لذت کو اپنے نفس کی ہلاکت کی تکلیف سے زیادہ سمجھا۔ایک بدوی کا اونٹ کھو گیا اس نے اعلان کیا کہ جو میرا اونٹ لاوے تو وہ اونٹ اسی کو دے دوں گا،لوگوں نے پوچھا پھر تجھے کیا ملے گا؟بولا اونٹ پالینے کی لذت،اس لذت کی تمہیں خبر نہیں۔ ۳؎ یہ ہے فتویٰ میں انتہائی احتیاط،آپ نے خیال فرمایا کہ حضرت مسروق ان مسائل میں مجھ سے بڑے عالم ہیں تو ان کے پاس بھیجنے میں شرم نہ فرمائی۔مسروق ابن اجدع ہمدانی ہیں،حضور کی وفات سے کچھ پہلے ایمان لائے،انہیں بچپن میں کسی نے چرالیا تھا بڑی مشکل سے ملے تب سے آپ کا نام مسروق ہو۔امام شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی خاندان جنت کے لیے پیدا ہوا ہو تو وہ اسود علقمہ مسروق ہیں،آپ کی وفات کوفہ میں ہوئی ۶۲ھ کو۔ ۴؎ اور مؤمن کو قتل کرنا ظلمًا ازروئے قرآن مجید حرام ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:" وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ"اور فرماتاہے:"لَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ"۔ ۵؎ اور خود دوزخ کی طرف دوڑنا بھی ممنوع ہے اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ۶؎ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ذبیح اﷲ حضرت اسماعیل ہیں کہ حضرت اسحاق علیہم الصلوۃ والسلام،زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔غالبًا حضرت مسروق جناب اسحاق علیہ السلام کو ذبیح اﷲ مانتے تھے۔ ۷؎ مگر میں نے فتویٰ خود نہ دیا کیونکہ جناب مسروق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے صحبت یافتہ اور ان کے شاگرد خاص ہیں وہ بڑے عالم ہیں۔(مرقات)