۱؎ لغت میں عدت عین کے کسرہ سے بمعنی شمار و گنتی ہے، عین کے پیش سے بمعنی تیاری۔شریعت میں اس انتظار کرنے کو عدت کہتے ہیں جو نکاح یا شبہ نکاح کے زائل ہونے کے بعد کیا جائے کہ اس زمانہ میں دوسرا نکاح کرنا ممنوع ہو۔عدت عورت پر واجب ہے نہ کہ مرد پر ہاں مقام دو ہیں جہاں مرد کو بھی انتظار کرنا پڑتا ہے جیسے مطلقہ بیوی کی بہن بھانجی خالہ وغیرہ سے اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک وہ عدت میں ہے۔خیال رہے کہ عورت کی عدت تین قسم کی ہے: وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہے، طلاق وغیرہ کی عدت حاملہ کے لیے حمل جن دینا غیر حاملہ بالغہ کے لیے تین حیض غیر حاملہ،نابالغہ اور بہت بوڑھی کے لیے تین ماہ۔ طلاق کے علاوہ فسخ نکاح میں بھی عدت واجب ہے خواہ فسخ خاوند کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے عدت بہرحال ہوگی۔(شامی،مرقات)
حدیث نمبر241
روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے وہ حضرت فاطمہ بنت قیس ۱؎ سے راوی کہ ابو عمرو ابن حفص نے انہیں طلاق بات دے دی جبکہ وہ غائب تھے ۲؎ تو ان کے وکیل نے حضرت فاطمہ کو کچھ جو بھیجے وہ ان پر ناراض ہوئیں تو وکیل نے کہا اﷲ کی قسم تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں ۳؎ تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں ۴؎ پھر انہیں حکم دیا ام شریک کے گھر عدت گزاریں ۵؎ پھر فرمایا کہ وہ ایسی بی بی ہیں جن کے پاس ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ۶؎ تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو وہ نابینا آدمی ہیں ۷؎ تم اپنے یہ کپڑے اتار دو ۸؎ پھر جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا فرماتی ہیں کہ جب میں فارغ ہوگئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ معاویہ ابن ابوسفیان اور ابوجہم نے پیغام دیا ۹؎ تو فرمایا کہ ابوجہم ۱۰؎ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے اتارتے ہی نہیں ۱۱؎ رہے معاویہ وہ بہت تنگدست ہیں جن کے پاس مال نہیں ۱۲؎ تم اسامہ ابن زید سے نکاح کرلو میں نے انہیں ناپسند کیا ۱۳؎ حضور نے پھر فرمایا کہ اسامہ سے نکاح کرلو میں نے ان سے نکاح کرلیا تو اﷲ نے اس نکاح میں بہت خیر دی کہ مجھ پر رشک کیا گیا ۱۴؎ اور ان ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ابو جہم بیویوں کو بہت مارنے والے ہیں(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ۱۵؎ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں مگر اس صورت میں کہ حاملہ ہوتیں ۱۶؎
شرح
۱؎ آپ ابوسلمہ ابن عبدالرحمان ابن عوف مدنی ہیں جلیل القدر تابعی مدینہ پاک کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں اور فاطمہ بنت قیس قرشیہ ہیں۔حضرت ضحاک کی بہن ہیں بہت جمال عقل و کمال والی بی بی ہیں،مہاجرین اولین سے ہیں،پہلے ابو عمرو ابن حفص کے نکاح میں تھیں انہوں نے طلاق دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح اسامہ ابن زید سے کیا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ۲؎ طلاق بات وہ طلاق ہے جو نکاح کو بالکل ہی ختم کردے جس کے بعد بغیر حلالہ نکاح نہ ہوسکے یعنی تین طلاقیں یا تیسری طلاق،یہاں پہلے معنے مراد ہیں یعنی تین طلاقیں(لمعات اور مرقات) ۳؎ یعنی ابو عمرو کے وکیل نے عدت کے خرچہ کے لیے تھوڑے سے جو بھیج دیئے جو حضرت فاطمہ نے ناپسند کیے کہ جو تھے وہ بھی تھوڑے وکیل نے کہا کہ یہ بھی ہماری مہربانی ہے ورنہ تم اس کی بھی حقدار نہیں ہو کیونکہ تم حاملہ نہیں اور عدت کا خرچہ مطلقہ حاملہ کو ہے۔ ۴؎ یعنی تم کو وہ خرچہ نہیں ملے گا جو تم چاہتی ہو،معمولی خرچہ مل چکا اس حدیث کی بنا پر حضرت ابن عباس و احمد نے فرمایا کہ غیر حاملہ مطلقہ کو نہ عدت میں خرچہ ملے گا نہ گھر، امام مالک و شافعی نے فرمایا کہ گھر تو ملے گا مگر خرچہ نہ ملے گا، ہمارے امام اعظم کا فرمان ہے کہ خرچہ و گھر دونوں ملیں گے،یہ ہی فرمان ہے حضرت عمر کا،جناب عمر نے فرمایا کہ ہم قرآن و حدیث کے مقابل صرف ان فاطمہ کا قول قبول نہیں کرسکتے،قرآن فرماتاہے:"اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ"اور میں نے سرکار کو فرماتے خود سنا کہ ہر مطلقہ کے لیے گھر بھی ہے خرچہ بھی۔یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں فاطمہ کے مطلوبہ خرچہ کی نفی ہے اور گھر سے منتقل کردینا کسی مجبوری سے تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے امام شافعی کی دلیل یہ آیت ہے:" وَ اِنۡ کُنَّ اُولٰتِ حَمْلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ"۔جس سے معلوم ہوا کہ صرف حاملہ مطلقہ کو عدت کا خرچہ ملے گا غیر مطلقہ کو نہیں، ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ غیر حاملہ کو خرچہ نہ ملنا اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا یہاں حاملہ کا ذکر اس لیے ہے کہ کبھی حمل کی مدت دراز ہوجاتی ہے فرمایا گیا خواہ کتنا ہی لمبا زمانہ حمل ہو خرچہ دیئے جاؤ۔(مرقات) ۵؎ اس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ حضور نے فاطمہ کو ان کے خاوند کے گھر سے کیوں منتقل فرمایا۔ ۶؎ صحابہ سے مراد ام شریک کے بال بچے عزیز و قرابتدار ہیں۔(مرقات)کیوں ام شریک غنیہ سخیہ مہمان نواز بی بی تھیں۔ ۷؎ تم کو دیکھ نہیں سکتے اور دوسرے صحابہ ان کے گھر آتے جاتے نہیں لہذا تمہاری وہاں بے پردگی نہ ہوگی۔خیال رہے کہ یہاں حضرت فاطمہ کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ ابن ام مکتوم کو دیکھیں،لہذا حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے"یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصٰرِہِنَّ"اور نہ اس حدیث ام سلمہ کے خلاف ہے افعمیا و انتما عورت بھی اجنبی مرد کو نہیں دیکھ سکتی۔ ۸؎ یہ نیا حکم ہے یعنی زمانہ عدت میں زینت کا لباس اتار دو یا گزشتہ کا حال یعنی تم وہاں آزاد ہوگی وہاں کوئی جاتا آتا نہیں تمہیں کوئی دیکھے گا نہیں۔ ۹؎ یعنی عدت گزر چکنے کے بعد مجھے ان دو شخصوں نے پیغام نکاح دیا ہے حضور کی رائے کیا ہے۔ ۱۰؎ آپ کا نام عامر ابن حذیفہ ہے عدوی ہیں ثقفی ہیں قرشی ہیں انہی سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کے لیے سادہ کپڑا خریدا تھا انبجانیہ ابو جہم۔ ۱۱؎ یعنی ہمیشہ سفر ہی میں رہتے ہیں گھر بہت ہی کم بیٹھتے ہیں یا اپنی بیوی کو مارتے بہت ہیں، دوسرے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ آگے آرہا ہے۔ضرب للنساء وہ روایت اس کی تفسیر ہے۔ خیال رہے کہ یہ غیبت نہیں بلکہ حضرت فاطمہ کی خیر خواہی ہے پیغام نکاح کے موقعہ پر زوجین میں سے ایک دوسرے کے عیوب کی خبر دینا جائز ہے تاکہ آئندہ خانہ جنگی نہ ہوغیبت حرام میں بہت سی قیود ہیں جو ہم نے اپنے فتاویٰ میں بیان کیں۔ ۱۲؎ اور ان کے باپ ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں جو اپنے بچوں کو خرچ نہیں دیتے تم کو کیا دیں گے۔ اﷲ اکبر یہ وہ معاویہ ہیں جو بعد میں اتنے غنی ہوگئے کہ ان کا لقب امیر معاویہ ہوا رضی اللہ عنہ،اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ عورت کو اچھا مشورہ دیا جائے اور جو بیوی کے نفقہ دینے پر قادر نہ ہو اس سے نکاح کرنا بہتر نہیں اگرچہ جائز ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ نِکَاحًا حَتّٰۤی یُغْنِیَہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ"ایسے غریب آدمی کو روزہ رکھنا بہتر ہے۔وہ جو حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا نکاح ایسے شخص سے کیا جو صرف کمبل کا مالک تھا اس کے گھرمیں کچھ نہ تھا وہ بیان جواز کے لیے تھا اوروہ عورت ایسی صابرہ شاکرہ تھی کہ مرد کے ساتھ فقر و فاقہ برداشت کرسکتی تھی،نیز وہ صاحب بعد میں بہت جلد مال دار ہوگئے۔ ۱۳؎ کیونکہ حضرت اسامہ سیاہ فام تھے اور مشہور تھا کہ وہ غلام زادے ہیں اور میں قریشہ عالی نسب تھی مگر حضرت اسامہ حضور کے محبوب اور نہایت متقی عالم تھے۔ ۱۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی نے ہم دونوں میاں بیوی میں ایسا اتفاق و سلوک بخشا کہ دوسری عورتوں نے مجھ پر رشک کیا ۔خیال رہے کہ ا یسے امور میں رشک جائز ہے حسد حرام،اس حدیث سے بہت سے مسائل معلوم ہوئے عورت کو پیغام پر پیغام دینا جائز ہے جب کہ پہلے سے بات چیت طے نہ ہوئی ہو غیر کفو سے نکاح درست ہے جب کہ عورت کے ولی راضی ہوں کفایت میں مال کا بھی اعتبار ہے حتی کہ امام شافعی کے ہاں نفقہ سے عاجز شوہر کی بیوی فسخ نکاح کراسکتی ہے۔(مرقات)نکاح میں بزرگوں سے مشورہ کرلینا بہتر ہے مشورہ ہمیشہ اچھا دینا چاہیے پیغام و سلام کی حالت میں فریقین کے واقعی عیوب کا بیان کردینا اچھا ہے تاکہ آئندہ خرابیاں نہ پڑیں بیوی کو مارنا جائز ہے مگر اچھا نہیں۔ ۱۵؎ یہ عبارت طلاق بتّہ کی شرح ہے کہ اس سے مراد تین طلاقیں تھیں نہ کہ تیسری طلاق۔ ۱۶؎ یہاں نفقہ سے مراد بہت عرصہ تک نفقہ ہے یعنی حاملہ مطلقہ کو عرصہ دراز تک نفقہ ملتا ہے جب تک کہ وہ بچہ نہ جن دے اور جننے کے بعد بھی بعض صورتوں میں بچہ کی پرورش کانفقہ ملتا رہتا ہے غیر حاملہ کو تھوڑی مدت صرف تین حیض تک نفقہ ملتا ہے لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن کریم کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے،اس کی بحث ابھی ہوچکی۔