روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے ۱؎ تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۲؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یہاں بأ س سے مراد سختی ہے،ما زائدہ ہے یعنی جو بغیر سخت تکلیف کے طلاق مانگے۔ ۲؎ یعنی ایسی عورت کا جنت میں جانا تو کیا ہی ہوگا وہاں کی خوشبو بھی نہ پائے گی اس سے مراد ہے اولیٰ داخلہ ورنہ آخر کار سارے مؤمن جنت میں پہنچیں گے اگرچہ کیسے ہی گنہگار ہوں لہذا یہ حدیث شفاعت کے خلاف نہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ ایسی عورت جنت میں پہنچ کر بھی وہاں کی خوشبو سے محروم رہے گی جیسے یہاں نزلہ و زکام والا آدمی پھول ناک پر رکھ کر بھی خوشبو نہیں پاتا۔(مرقات)مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔