۱؎ یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی یا کسی اور حلال چیز کو اپنے پر حرام کرے تو یہ تحریمہ قسم ہے جس میں کفارہ واجب ہوگا یہ ہی قوی ہے۔حضرت ابن عباس اور امام اعظم کے ہاں اگر طلاق کی نیت سے حرام کرے تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی اس کی تحقیق کتب فقہ میں ہے۔
۲؎ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر شہد یا بی بی ماریہ کو حرام کیا تھا تو رب تعالٰی نے اسے قسم قرار دیا تھا کہ فرمایا:" یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ"پھر فرمایا قَدْ فَرَضَ اللہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیۡمٰنِکُمْ"۔اس آیت سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حلال کو حرام کرلینا قسم ہے۔