| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی وہ روش میں سیدھی ہر گز نہ ہوگی ۱؎ تو اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس سے نفع حاصل کرو حالانکہ اس میں ٹیڑھ ہو۲؎ اور اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو توڑ دو گے اس کا توڑنا اس کا طلاق ہے ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ کیونکہ ٹیڑھا پن عورت کی فطرت میں داخل ہے تعلیم و تربیت سے کچھ درست ہوجاتی ہے مگر بالکل سیدھی نہیں ہوتی۔ ۲؎ یعنی اسے اس کی حالت پر رہنے دو،اس کی بدخلقی ناشکری وغیرہ کی برداشت کرو اور اپنا کام نکالو،اس کے بغیر تمہارے کام نہیں چل سکتے،وہ تمہاری وزیر اور گھر کی منتظم ہے۔ ۳؎ اگر تم اسے ہر بات پر ملامت کرو،اس کے ہر عمل کی نگرانی کرو تو تمہارا گھر میدانِ جنگ بن جائے گا،اور آخر طلاق دینا پڑے گی۔لہذا بعض باتوں میں چشم پوشی کیا کرو۔