Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
123 - 1040
باب الصداق

مہر کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ صداق صاد کے فتح سے بھی ہے اور کسرہ سے بھی صدق سے بنا ب معنی سچائی معلوم کرنے کا ذریعہ،مہر کو صدق اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے مرد کی سچائی محبت معلوم ہوتی ہے۔ہمارے ہاں مہر کم از کم ایک دینار یعنی دس۱۰ درہم(پونے تین روپے ہے)امام مالک کے ہاں چہارم دینار یعنی ڈھائی درہم، امام شافعی کے نزدیک جو چیز بیع میں قیمت ہوسکتی ہے وہ نکاح میں مہر بھی بن سکتی ہے،یعنی ایک پیسہ بھی مہر ہوسکتا ہے۔
حدیث نمبر 123
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ۱؎ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک عورت آئی ۲؎ بولی یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اپنی جان آپ کو ہبہ کی ۳؎ پھر بہت دیر کھڑی رہی ۴؎ تو ایک آدمی اٹھ کر بولا یا رسول اﷲ اس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے اگر حضور کو اس کی ضرورت نہ ہو ۵؎ تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ ہے جو تو اسے مہر دے ۶؎ بولا میرے پاس اس تہبند کے سوا کچھ نہیں فرمایا تلاش تو کر اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۷؎ اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ پایا ۸؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تیرے ساتھ کچھ قرآن بھی ہے ۹؎ بولا ہاں فلاں فلاں سورۃ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ میں نے اس کا نکاح تجھ سے کردیا اس قرآن کی وجہ سے جو تجھے یاد ہے ۱۰؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا لہذا اسے قرآن سکھاؤ ۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کا نام پہلے حزن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سہل رکھا،آپ کی کنیت ابوالعباس ہے، انصاری ہیں، ساعدی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی    ۹۱ھ؁  میں آپ کی وفات ہے مدینہ منورہ میں آخری صحابی آپ ہی رہ گئے تھے۔(کمال)

۲؎ یہ بی بی صاحبہ یا تو میمونہ بنت حارث تھیں یا زینب بنت خزیمہ یا ام شریک بنت جابر یا خولہ بنت حکیم تھیں واﷲ اعلم۔(مرقات)

۳؎ یعنی آپ مجھے بغیر مہر اپنی زوجیت میں قبول فرمالیں،یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات سے ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:" وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ "اور فرماتاہے:" خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔اس سے معلوم ہوا لفظ ہبہ سے نکاح درست ہے کہ یہ کلمہ ان بی بی صاحبہ کی طرف سے نکاح کا ایجاب تھا نکاح کا تکملہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قبول پر موقوف تھا۔

۴؎ مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس سے نکاح کرنا منظور نہ تھا اور انکار فرمایا نہیں تاکہ ان بی بی کو شرمندگی نہ ہو۔

۵؎ یا اس طرح مجھ سے نکاح فرمادیں کہ اسے اس نکاح پر راضی کردیں یا حضور سلطان المسلمین ہیں اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہوتا ہے لہذا حدیث پہ یہ اعتراض نہیں کہ ان بی بی صاحبہ نے حضور کو دوسرے سے نکاح کردینے کا وکیل نہ بنایا تھا۔

۶؎ یہاں مہر سے مراد مہر معجل ہے جو نکاح کے وقت دیا جاتا ہے جسے آج کل چڑھاوا کہا جاتا ہے ورنہ فی الحال مطالبہ نہ ہوتا کیونکہ مہر کا مطالبہ خاص نکاح کے وقت نہیں ہوتا۔

۷؎ لوہے کی انگوٹھی سے مراد معمولی حقیر چیز ہے نہ کہ خاص لوہے کی انگوٹھی کیونکہ لوہے کی انگوٹھی مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ہے لہذا اس حدیث سے یہ ثابث نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام لوہے کے چھلے،انگوٹھیاں پہنتے تھے۔

۸؎ اﷲ اکبر! یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی مالی حالت کہ سارے گھر میں صرف اﷲ رسول کا نام ہے۔سامان کچھ بھی نہیں برتن بھانڈا بھی نہیں اس حالت میں انہوں نے دنیا میں اسلام پھیلایا۔

 ۹؎ یعنی کیا تجھے قرآن مجید کی کچھ سورتیں یاد ہیں یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید کے لیے ہے ورنہ ہر مسلمان کو قرآن مجید کی کچھ آیات و سورتیں ضرور یاد ہوتی ہیں کہ نماز میں تلاوت قرآن فرض ہے اور مسلمان ہر موقعہ پر بسم اﷲ،اعوذ،انا ﷲ،سبحان اﷲ،لاحول وغیرہ پڑھا ہی کرتے ہیں۔

۱۰؎ جمہور علماء کے نزدیک بما معك میں ب سببیہ ہے نہ کہ عوض یا مقابلہ کی چونکہ تجھے قرآن مجید کی سورتیں یاد ہیں اس لیے میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا کیونکہ عالم غیر عالم سے افضل ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ تعلیم قرآن یا دیگر خدمات کو مہر نکاح بناسکتے ہیں اور یہ ب عوض کی ہے وہ اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ ان آیات قرآنیہ کی تعلیم کے عوض میں نے تیرا نکاح اس سے کردیااور حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ سے دلیل پکڑتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی صفورا کا نکاح موسیٰ علیہ السلام سے آٹھ دس سال خدمت کے عوض کیا کہ فرمایا:" اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُنۡکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیۡنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ"مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتاہے:"اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"۔معلوم ہوا کہ نکاح مال کے عوض ہونا چاہیے اور قرآن کریم کی تعلیم مال نہیں۔شریعت شعیب علیہ السلام کے احکام دوسرے تھے بلکہ حق یہ ہے حضرت شعیب علیہ السلام نے دس سال کی خدمت کو شرط نکاح قرار دیا تھا نہ کہ مہر نکاح اسی لیے علی فرمایا ب نہ فرمایا نیز فرمایا"عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ" میری خدمت کرو اور مہر عورت کی ملک ہوتا ہے نہ کہ سسر کی اور موسی علیہ السلام کو اتنے دن اپنی خدمت میں رکھنا کلیم الہٰی کے لائق بنانا تھا کیونکہ آپ فرعون کے پاس اب تک رہے کسی شیخ کی صحبت کی ضرورت تھی۔

اگر کوئی شعیب آئے میسر	شبانی سے کلیمی دو قدم ہے

۱۱؎ خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار مقررنہیں مگر یہ غلط ہے یہ حدیث اس کی تائید نہیں کرتی کیونکہ کسی امام کے نزدیک قرآن مہر نہیں بن سکتا،سب کے ہاں مہر مال ہونا چاہیے ہاں مال کی ادنیٰ مقدار میں اختلاف ہے اور یہاں قرآن پر نکاح کیا گیا۔معلوم ہوا کہ مہر نکاح کا یہاں ذکر نہیں، امام اعظم کے ہاں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کیونکہ دارقطنی نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت کا نکاح ولی کریں،کفو میں کریں،دس درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں اور دس درہم سے کم مہر نہیں،دار قطنی و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ دس درہم سے کم مہر نہیں لہذا دس درہم سے کم کی روایات میں چڑھاوا مراد ہے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)
Flag Counter