۱؎ زوج مجرور ہے اس کا تعلق مملوکین سے ہے یعنی عائشہ صدیقہ کے پاس ایسے دو کنیز و غلام تھے جن میں زوجیت کا تعلق تھا کہ عورت بیوی تھی مرد اس کا خاوند،بعض نسخوں میں زوجین ہے مملوکین کی صفت،بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے مملوکۃ لھازوج مطلب ایک ہی ہے۔
۲؎ یعنی اے عائشہ نہ تو دونوں خاوند و بیوی کو ایک ساتھ آزاد کرو نہ عورت کو پہلے،مرد کو پیچھے،بلکہ پہلے مرد کو آزاد کرو پھر عورت کو،کیونکہ مرد عورت سے افضل ہے لہذا مرد کا آزاد کرنا بھی عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہوا اور افضل کام کرنا بہتر ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں نہ امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے ہاں اگر زوجین ایک ساتھ ہی آزاد ہو تو لونڈی کو حق فسخ نہیں ملتا پھر مرد کو پہلے آزاد کرنے کا کیا مطلب۔