Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
121 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 121
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے اپنے دو زوجین مملوکوں کو آزاد کرنا چاہا ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور نے انہیں حکم دیا کہ عورت سے پہلے مرد سے ابتداء کریں ۲؎(ابوداؤد۔نسائی)
شرح
۱؎ زوج مجرور ہے اس کا تعلق مملوکین سے ہے یعنی عائشہ صدیقہ کے پاس ایسے دو کنیز و غلام تھے جن میں زوجیت کا تعلق تھا کہ عورت بیوی تھی مرد اس کا خاوند،بعض نسخوں میں زوجین ہے مملوکین کی صفت،بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے مملوکۃ لھازوج مطلب ایک ہی ہے۔

۲؎ یعنی اے عائشہ نہ تو دونوں خاوند و بیوی کو ایک ساتھ آزاد کرو نہ عورت کو پہلے،مرد کو پیچھے،بلکہ پہلے مرد کو آزاد کرو پھر عورت کو،کیونکہ مرد عورت سے افضل ہے لہذا مرد کا آزاد کرنا بھی عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہوا اور افضل کام کرنا بہتر ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں نہ امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے ہاں اگر زوجین ایک ساتھ ہی آزاد ہو تو لونڈی کو حق فسخ نہیں ملتا پھر مرد کو پہلے آزاد کرنے کا کیا مطلب۔
Flag Counter