Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
102 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 102
روایت حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نسب سے سات عورتیں حرام ہیں ۱؎ اور سسرالی رشتہ سے سات پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں ۲؎  الایہ(بخاری)
شرح
۱؎ وہ سات عورتیں یہ ہیں ،ماں،بیٹی،بہن،پھوپھی،خالہ،بھتیجی،بھانجی۔

 ۲؎ خیال رہے کہ نکاح کی وجہ سے چند عورتیں دائمی حرام ہوجاتی ہیں،اپنی ساس،بیٹے کی بیوی،پوتے کی بیوی،دادا کی بیوی، مدخول بہابیوی کی بیٹی اور عارضی طور پر چند عورتیں حرام ہوتی ہیں،بیوی کی بہن،اس کی پھوپھی اس کی خالہ جس آیت سے حضرت ابن عباس نے استدلال کیا ہے یعنی"وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ"۔اس میں نہ تو بیوی کی خالہ اور پھوپھی کا ذکر ہے نہ سسر کی بیوی کا،لہذااس آیت سے استدلال کچھ کمزور ہے یا کہو کہ اکثر کا ذکر ہے نہ کہ کل کا۔
Flag Counter