| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں ایک عورت مسلمان ہوئی اس نے نکاح کرلیا ۱؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا خاوند حاضر ہوا عرض کیا یارسول اﷲ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور اس عورت کو میرے اسلام کا علم ہے ۲؎ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسرے خاوند سے علیحدہ کردیا۔ اور پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا ۳؎ اور ایک روایت میں ہے وہ بولا کہ یہ میرے ساتھ مسلمان ہوئی تھی تب حضور نے اسے واپس کردیا ۴؎ (ابوادؤد)
شرح
۱؎ شاید اس بی بی نے اپنا منکوحہ ہونا بیان نہ کیا ہوگا اس لیے اس کا دوسرا نکاح کردیا ہوگا، ورنہ عورت کے اسلام لانے پر تین صورتوں میں نکاح ختم ہوتا ہے: ایک تو عورت کی عدت گزرجانا کہ خاوند عدت گزارنے تک ایمان نہ لائے یا خاوند پر اسلام پیش کرنا اور اس کا انکار کردینا یاان دونوں میں سے کسی ایک کا دارالاسلام میں آجانا دوسرے کا دارالحرب میں ہی رہ جانا اس کے برعکس کہ دونوں دارالسلام میں تھے،اور ان میں سے ایک دارحرب میں چلا گیا،یہ مذہب احناف ہے۔ ۲؎ علمت میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ یہ صیغہ واحد متکلم ہو یعنی میں نے سوچ سمجھ کر جان پہچان کر اسلام قبول کیا تھا میرا ایمان محض تقلیدی نہ تھا،دوسرے یہ کہ صیغہ واحد غائب کا ہو یعنی اس عورت کو خبر تھی کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں مگر اس نے نہ تو اپنے نکاح کا ذکر کیا اور نہ میرے اسلام لاچکنے کا،جس کی وجہ سے اس کا نکاح اور شخص سے کردیا گیا۔ ۳؎ یعنی نکاح ثانی کو کالعدم قرار دیا اس لیے اس دوسرے خاوند سے طلاق نہ دلوائی بلکہ علیحدگی کا حکم دے دیا اور پہلے نکاح کو قائم رکھااس لیے پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح نہ کیا بلکہ واپس کردیا ہاں اگر دوسرا خاوند صحبت کرچکا ہو تو پہلے خاوند کو ایک حیض آنے تک صحبت سے باز رہنے کا حکم دیا ہوگا جیسے استبراء کہتے ہیں اور وطی بالشبہ کے لیے یہ ہی حکم ہے اور اگر صحبت نہ کی ہو تو اس کا بھی حکم نہ دیا۔یہ حدیث امام ابوحنیفہ رحمۃا ﷲ علیہ کی دلیل ہے کہ صرف عورت کے اسلام لانے پر نکاح فسخ نہیں ہوتا بلکہ فسخ نکاح کے لیے ان تین چیزوں میں سے ایک ضروری ہے جس کا ابھی ذکر کیا گیا حضرت امام شافعی کے ہاں عورت کا صرف مسلمان ہوجانا فسخ نکاح کا باعث ہے۔(اشعہ) ۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر عورت مسلمان ہو کر مرد کے انکار اسلام کا دعوی کرے اور مرد کہے کہ میں نے انکار نہ کیا تھا ساتھ ہی مسلمان ہو گیا تھا تو مرد کی بات قبول ہے نہ کہ عورت کی۔