۱؎ مکروب سے مراد وہ شخص ہے جس کو کسی خاص غم و رنج یا فکر نے گھیر لیا ہو جس سے خلاصی کی صورت نہ بنتی ہو،چونکہ یہ دعا بہت سی دعاؤں پر مشتمل ہے اس لیے اسے دعوات یعنی دعائیں فرمایا گیا،یہ دعا دفع رنج و غم کے لیے بہت مجرب ہے۔
۲؎ یعنی میں صرف تیری رحمت ہی کا امیدوار ہوں اور تیرا نام رجاء السائلین بھی ہے کوئی آس لگا کر آنے والا سائل تیرے در سے مایوس نہیں لوٹتا۔لہذا مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میرا سب سے بڑا دشمن یہ ہی ہے اور ساتھ ہی میں کمزور بھی ہوں،میں کسی چیز میں تیری مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔
۳؎ اسے ابن حبان،ابن ابی شیبہ،ابن سنی،طبرانی نے بھی روایت کیا۔