Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
80 - 5479
حدیث نمبر 80
روایت ہے حضرت ابن ساعدی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر نے صدقہ پر عامل بنایا۲؎ جب میں اس سے فارغ ہوا اور صدقہ آپ کی خدمت میں ادا کردیا تو مجھے اجرت کا حکم دیا میں نے عرض کیا کہ میں نے اﷲ کے لیے کام کیا ہے میری اجرت اﷲ پر ہے۳؎ فرمایا جو تمہیں دیا جائے وہ لے لو میں نے بھی زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ عمل کیا تھا مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت دی تھی تو میں نے بھی تمہارے جیسی عرض کی تھی تو مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو کچھ تمہیں بغیر مانگے ملے وہ کھالو اور صدقہ کرو ۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کو ابن سعدی بھی کہتے ہیں،اپنی اسی کنیت میں مشہور ہیں،صحابی ہیں،شام میں ۵۷ھ؁ وفات پائی۔(اشعہ)

۲؎ یعنی حضرت عمرفاروق نے اپنے زمانۂ خلاف میں مجھے لوگوں کے ظاہری مال(جانور،زرعی پیداوار)کی زکوۃ وصول کرنے بھیجا،اس زمانہ میں وصولی زکوۃ کا باقاعدہ محکمہ ہوتا تھا جس میں ان لوگوں کو زکوۃ سے اجرت دی جاتی تھی انہیں عامل کہتے تھے ان کی اجرت کو عمالہ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَالْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا"۔

۳؎  حضرت ابن ساعدی کا خیال یہ تھا کہ اجرت لے لینے سے ثواب جاتا رہے گا اور میں نے یہ کام ثواب کے لیے کیا ہے اس لیے قبول سے انکار کیا۔

۴؎  سبحان اﷲ! کیا پیاری تعلیم ہے۔مقصد یہ ہے کہ بغیر مانگے جو رب دے اسے نہ لینا اﷲ کی نعمت کا ٹھکرانا ہے جو اﷲ تعالٰی کو سخت ناپسند ہے لہذا یہ ضرور لے لو۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نیک اعمال کی اجرت لینا جائز ہے۔چنانچہ علماء،قاضی،مدرسین حتی کہ خود خلیفہ کی تنخواہ بیت المال سے دی جائے گی،سوائے حضر ت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے باقی تینوں خلفاء نے بیت المال سے خلافت کی تنخواہ وصول کی ہے۔دوسرے یہ کہ جب کام کرنے والے کی نیت خیر ہو تو تنخواہ لینے سے ان شاءاﷲ ثواب کم نہ ہوگا۔صرف تنخواہ کے لیے دینی کام نہ کرے تنخواہ تو گزارے کے لیے وصول کرے اصل مقصد دینی خدمت ہو۔تیسرے یہ کہ غنی بھی یہ اجرتیں لے سکتا ہے صرف فقیر ہی کو اجازت نہیں،پھر لے کر خودبھی کھاسکتا ہے اس سے خیرات بھی کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ امام احمد کے ہاں ہدیہ قبول کرنا واجب ہے،اس حدیث کی بنا پر باقی جمہورعلماء کے ہاں یہ حکم استحبابی ہے۔مرقات نے اس جگہ فرمایا کہ سلطان اسلام پر واجب ہے کہ ایسے علماء،مفتیوں،مدرسوں کی تنخواہیں مقرر کرے جنہوں نے اپنے کو دینی خدمات کے لیے وقف کردیا ہو۔
Flag Counter