Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
61 - 5479
حدیث نمبر 61
روایت ہے حضرت زیاد ابن حارث صدائی سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے بیعت کی ۱؎ انہوں نے ایک دراز حدیث سنائی کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا بولا کہ مجھے صدقہ سے دیجئے۲؎ ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی صدقات کے متعلق نبی وغیرہ کے حکم سے راضی نہ ہوا حتی کہ اس کا خود حکم آیا۳؎  مصرف کی رب تعالٰی نے آٹھ قسمیں کیں اگر تم ان آٹھ قسموں سے ہو تو میں تم کو دے دوں۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ بیعت بیعت اسلام تھی،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو مسلمان کرتے وقت استقامت علے الدین کی بیعت،توبہ کی تقویٰ کی،کسی خاص حکم پر عمل کرنے کی بھی بیعت لی ہے۔آجکل عمومًا مرشدوں سے توبہ یا تقویٰ کی بیعت کی جاتی ہے،بیعت اسلام کا ذکر اس آیت میں ہے"اِذَا جَآءَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ" الایہ۔

۲؎ صدقہ سے مراد زکوۃ ہے جیساکہ آئندہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنی صحابہ اپنی زکوتیں خیرات کو دے جاتے تھے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پر زکوۃ فرض نہ تھی،یہاں وہ زکوٰتیں مراد ہیں۔

۳؎ یعنی رب تعالٰی نے براہ راست جس قدر تفصیل زکوۃ کے مصارف کی فرمائی اتنی تفصیل دوسرے احکام کی نہ کی حتی کہ خود زکوۃ و نماز کا اجمالی ذکر ہی فرمایا،نبی کے بیان پر کفایت نہ فرمائی۔عدم رضا سے مراد عدم کفایت ہے اس لفظ سے دھوکا نہ کھانا چاہیے اﷲ تعالٰی اپنے محبوب اور ان کے سارے احکام سے راضی ہے،ان کے غلاموں کے بارے میں فرماتا:"رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ"۔ان کی شان تو بہت اعلیٰ ہے۔

۴؎ اس کلام کا منشاء یہ ہے کہ تم ان آٹھ میں سے نہیں ہو لہذا تم زکوۃ نہیں لے سکتے،یہ گفتگو عتابانہ ہوتی ہے لہذا اس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جاتا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے اندرونی حالات سے بے خبرہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھروں میں کھاتے بچاتے ہو میں تمہیں یہاں بتاسکتا ہوں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن شدہ مردوں کے متعلق فرمایا یہ چغل خور تھا،یہ پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچتا تھا۔خیال رہے کہ احناف کے ہاں زکوۃ تمام مصارف پرتقسیم کرنا ضروری نہیں صرف ایک مصرف کو بھی دے سکتے ہیں یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔
Flag Counter