Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
600 - 5479
حدیث نمبر 600
روایت ہے حضرت عامر الرام سے۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ناگہاں ایک شخص آیا جس پر کمبل تھا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹا تھا عرض کیا یارسول اﷲ میں ایک درخت کی جھاڑی پر گزرا تو میں نے اس جھاڑی میں چڑیا کے چوزوں کی آواز سنی ۲؎ میں نے انہیں پکڑ لیا اور اپنے کمبل میں رکھ لیا ۳؎ اتنے میں ان کی ماں آگئی وہ میرے سر پر چکر لگانے لگی میں نے اس کے سامنے وہ بچے کھول دیئے وہ ان پر گر پڑی ۴؎ میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا وہ سب یہ میرے ساتھ ہیں فرمایا انہیں رکھ دو ۵؎ میں نے رکھ دیا ان کی ماں انہیں چمٹی رہی ۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم ان چوزوں کی ماں کی اپنے بچوں سے اتنی مامتا پر تعجب کرتے ہو اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اﷲ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی بچوں کی ماں چوزوں ۷؎ پر انہیں واپس لے جاؤ حتی کہ انہیں وہاں ہی رکھ آؤ جہاں سے پکڑا ہے اور ان کی ماں ان کے ساتھ رہی وہ انہیں واپس لے گیا ۸؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ رام اصل میں رامی تھا،بمعنی تیرانداز چونکہ یہ فن تیر اندازی میں یکتا تھے اس لیے ان کا نام عام رام پڑ گیا۔

۲؎ غیضہ وہ جنگل ہے جہاں بہت گھنے درخت ہوں جسے اردو میں جھاڑی کہتے ہیں کبھی اس درخت کو کبھی غیضہ کہہ دیتے ہیں جس کی جڑ ایک ہوتنے اور شاخیں بہت ہوں اور گھنی ہوں جن سے دھوپ نہ چھن سکے۔یہاں دوسرے معنی ظاہر ہیں،یہ حضرت چرواہے تھے جو جانوروں کو چرانے کے لیے دوردور نکل جاتے ہیں ایسے واقعات ان کو زیادہ درپیش آتے ہیں فراخ جمع فرخ کی ہے فرخ چڑیا کا وہ بچہ ہے جو ابھی اڑ نہ سکے اور اس کی ماں اسے دانہ دے۔

 ۳؎ معلوم ہوا کہ جنگل کی چڑیاں اور ان کے بچے کسی کی ملک نہیں ہر شخص انہیں پکڑ سکتا ہے۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس فعل پر انہیں تنبیہ نہ فرمائی،وہاں ایسے بچوں کو ماں سے جدا نہ کیا جائے بلکہ انہیں مع ماں کے اپنے گھر میں پال لے یا ان کی جگہ پہنچادے،مگر کسی کا پالتو جانور اور اس کے بچے دوسرا آدمی نہیں پکڑ سکتا اگر پکڑے گا تو مجرم ہوگا۔

 ۴؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ عشق بے خوفی پیدا کرتا ہے اسی عشق سے دل میں قوت،بدن میں طاقت،طبیعت میں ہمت و جرائت پیدا ہوتی ہے۔دیکھو چڑیا انسان سے ڈرتی ہے مگر بچوں کے عشق نے اس کے دل سے ڈر،نفرت سب نکال دیا،بلکہ کبھی ایسی چڑیا انسان پر حملہ کردیتی جب دنیا کے عشق کا یہ حال ہے تو جسے اﷲ تعالٰی عشق مصطفی نصیب کرے اس میں دلیری کیوں نہ پیدا ہوجائے۔کربلا میں حسینی قافلہ بہتّر۷۲ آدمیوں پر مشتمل تھا اور مقابلہ میں بائیس ہزار یزیدی مگر،حسینی قافلہ کی ہمت شجاعت دلیری آج تک مشہور ہے یہ دلیری کہاں سے آئی انہی حضرت عشق کی کرشمہ سازی تھی۔

 ۵؎ یعنی اپنا کمبل زمین پر رکھ کر انہیں کھول دو تاکہ یہ نظارہ ہم سب بھی دیکھیں،معلوم ہوا کہ جانوروں کی حرکات کا تماشا دیکھنا اگر لہوو لعب کی نیت سے نہ ہو بلکہ عبرت حاصل کرنے کی نیت سے ہو تو جائز ہے۔حرکتوں سے مراد ان کا ناچ و کود نہیں،بلکہ وہ تو محض کھیل کود ہے۔

 ۶؎ یعنی لوگوں کا اتنا مجمع دیکھ کر بھی اپنے بچوں سے نہ بھاگی بلکہ اپنی جان پر کھیل کر انہیں اپنے پروں میں چھپائے رہی۔

 ۷؎ بندوں سے مراد سارے بندے ہیں مؤمن ہوں یا کافر متقی ہوں یا فاجر پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ بارگاہ الٰہی میں گناہوں سے نفرت ہے نہ گنہگار سے اسی رحمت کی بنا پر رب تعالٰی نے بندوں میں انبیاء و اولیاء بھیجے کا فریا مجرم خود اپنے کو مستحق کرلیتے ہیں رب تعالٰی ان کے جہنم میں جانے سے راضی نہیں مولانا عطار فرماتے ہیں۔شعر

خلق ترمبد از تو من تو سم ز خود		کر تو نیکی دیدہ ام وزخویش

۸؎  اس عبارت کی دو قرأتیں ہیں اُمُّھُنَّ کا رفع اور زبر مرقات اور اشعۃ اللمعات نے پہلی قرأت اختیار کی اور اس جملہ کو حال قرار دیا یعنی ان چوزوں کی ماں ان چوزوں کے ساتھ رہی،دوسری قرأت کی بناء پر معنی یہ ہوں گے کہ ان بچوں کے ساتھ ان کی ماں کو بھی رکھ آؤ،اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں کے چھوٹے بچوں کو ان کی ماں سے الگ نہ کیا جائے اسلام نے جانوروں پر بھی رحم کرنے کا حکم دیا۔
Flag Counter