روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو بندہ مسلمان ہو اور اس کا اسلام اچھا ہو۱؎ تو اﷲ تعالٰی اس کے سارے کئے ہوئے گناہ مٹا دیتا ہے ۲؎ اس کے بعد قصاص ہوتا رہتا ہے۳؎ کہ نیکی تو دس گنے سے لے کرسات سو گنا بلکہ بہت زیادہ گنا تک ہے ۴؎ اور گناہ اس کے برابر مگر یہ کہ اﷲ تعالٰی معافی دیدے ۵؎(بخاری)
۱؎ اس طرح کہ اخلاص کےساتھ دل سے مسلمان ہو منافقت سے کلمہ نہ پڑھے۔
۲؎ زمانۂ کفر کے سارے گناہ اسلام سے ختم ہوجاتے ہیں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے لہذا زمانۂ کفر کے قرض، ظلمًا قتل وغیرہ اس کے ذمہ رہیں گے اسی لیے سیئہ فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ زمانۂ کفر کی نیکیاں برباد نہیں ہوتیں بلکہ اسلام کے بعد وہ قبول ہوجاتی ہیں۔
۳؎ یعنی مسلمان ہوچکنے کے بعد بدلہ ہوا کرے گا اس بدلے کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
۴؎ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ" الخ۔ زمانہ کفر کے سارے گناہ اسلام سے ختم ہوجاتے ہیں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔
۵؎ یہ رب تعالٰی کا فضل ہے کہ ایک نیکی پر سات سو بلکہ اس سے زیادہ تک جزاء اور ایک گناہ کی جزاء صرف ایک۔مگر خیال رہے کہ جیسا گناہ ویسی جزاء،بعض گناہ وہ ہیں جن سے نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔غرضکہ گناہ کی سزا مقدار میں نہ بڑھے گی۔رہی کیفیت اس میں فرق ہوگا،پھر رب کی معافی کی دو صورتیں ہیں:یا تو بندوں کو توبہ کی توفیق دے دی جائے یا بغیر توبہ ویسے ہی بخش دیا جائے۔