Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
593 - 5479
حدیث نمبر 593
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  پر کچھ قیدی آئے تو قیدیوں میں ایک عورت کی چھاتیاں دودھ سے چھلک رہی تھیں۱؎ وہ دوڑ رہی تھی جب قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی اسے پکڑتی  اپنے پیٹ سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلادیتی ۲؎ تب ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں پھینک دے ہم نے عرض کیا اگر وہ پھینکنے پر قادر ہو تو کبھی نہ پھینکے فرمایا اﷲ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ اپنے بچے پر۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کیونکہ اس کا بچہ اس سے جدا ہوچکا تھا اور یہ نئی والدہ تھی۔تحلب حلب سے بنا جس کے معنے ہیں دودھ دوہنا،یہاں دودھ کی وہ کثرت مراد ہے جسے پستان نہ سنبھال سکیں اور دودھ ٹپکنے لگے۔

۲؎ تاکہ دودھ کا جوش کچھ کم ہوجائے،نیز وہ اپنے بچہ کو یادکرکے دوسرے بچوں پرمہربانی کرتی تھی۔(مرقات)

۳؎ جیسے ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آگ میں جلے ایسے ہی رب تعالٰی نہیں چاہتا کہ میرا بندہ آگ میں جلے وہ تو ماں سے زیادہ مہربان ہے۔خیال رہے کہ یہاں چاہنا بمعنی راضی ہونا ہے نہ کہ بمعنی ارادہ کرنا رب تعالٰی نہ کفر سے راضی ہے نہ فسق سے،دنیا کا ہر کام رب تعالٰی کے ارادے سے ہے نہ کہ اس کی رضا سے،لوگ اپنی حرکتوں سے دوزخ میں جاتے ہیں رب تعالٰی ان کے اس جانے سے راضی نہیں لہذا حدیث صاف ہے اس پر مسئلۂ تقدیر کے اعتراضات نہیں پڑ سکتے۔
Flag Counter