| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت جندب سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی نے کہا رب کی قسم اﷲ تعالٰی فلاں کو نہ بخشے گا ۲؎ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جو مجھ پرقسم کھاتا ہے کہ فلاں کو نہ بخشوں گا۳؎ میں نے فلاں کو توبخش دیا اور تیرے عمل ضبط کرلیے ۴؎ یا جیسے حضور انور نے فرمایا ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ جندب حضرت ابوذرغفاری کا نام بھی ہے جو مشہورصحابی ہیں اور دوسرے صحابہ کا بھی،یہاں غالبًا دوسرے کوئی صحابی مراد ہیں کیونکہ محدثین حضرت ابوذر کو جندب کے نام سے بیان نہیں کیا کرتے اور ہوسکتا ہے کہ ابوذر غفاری ہی مراد ہوں،مرقات نے دوسری توجیہ کو ترجیح دی۔ ۲؎ اس لیے نہ بخشے گا کہ اس نے گناہ بہت ہی بڑا کیا یا اس لیے کہ اس نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور میں بڑا مقبول خدا ہوں،مجھ پرظلم کرنا لائق بخشش نہیں۔پہلی صورت میں یہ کلام صرف غیبت ہے دوسری صورت میں غیبت بھی ہے اور اپنی شیخی بھی۔ ۳؎ یَتَاَلّٰی تَاَلِّیْ سے بنا بمعنی قسم کھانا اسی سے ایلاءہے،یہ دونوں شخص مصر کے باشندے تھے پہلا فاسق تھا اور دوسرا متقی مگر اپنے کو گنہگار جانتا تھا اور یہ عابد اپنے زہدوتقویٰ پر نازاں تھا۔(از اشعہ)اس بارگاہ بے نیاز میں کسی کو نازکرنے کا حق ہی نہیں وہاں نیاز دیکھا جاتا ہے۔شعر او گنہگاریاں عجز وکھاون قرب حضوری پاون عملاں والیاں نازوکھاون دور نکالیاں جاون ۴؎ یعنی اس شخص کی شیخی کی وجہ سے میری غیرت کا دریا جوش میں آگیا اس فاسق کو میں نے نیک بننے کی توفیق دے دی جس سے اس کے سارے گناہ بخشے گئے اور اس متکبر زاہد کی توفیق سلب کرلی جس سے یہ کافر ہو کر مرا اور اس کی تمام نیکیاں ضبط ہوگئیں۔ اس شرح کی بناء پر حدیث بالکل واضح ہوگئی نہ آیات قرآنیہ کے خلاف رہی نہ دیگر احادیث کے۔ضبطی عمل کفر سے ہوتی ہے نہ کہ معمولی گناہ سے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں زاہد کے عمل ضبط ہونے سے مراد اس کی اس قسم کا جھوٹا کردینا ہے کہ فاسق کو بخش دیا زاہد کی قسم کو جھوٹا کردیا اس صورت میں بھی یہ حدیث مذہب اہلسنت کے خلاف نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص کسی کے انجام کے متعلق اپنی رائے سے فیصلہ نہیں کرسکتا کہ فلاں جنتی ہے فلاں دوزخی،اﷲ تعالٰی انجام بخیر کرے۔آمین! ہرشخص ڈرتا رہے۔شعر پانی بھریں پنہاڑیاں رنگ برنگے گھڑے بھریا اس کا جانیئے جس کا توڑ چڑھے ۵؎ یہ شک راوی کی طرف سے ہے یعنی الفاظ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ہی تھے یا کچھ اور مگر مضمون یہ ہی تھا۔معلوم ہوا روایت بالمعنی جائز ہے۔