| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ وہ ایک قصہ خواں پر گزرے جو قرآن پڑھتا اور لوگوں سے مانگتا تھا ۱؎ آپ نے انّا ﷲ پڑھی پھر فرمایا ۲؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قرآن پڑھے تو اس کے ذریعہ صر ف اﷲ سے مانگے عنقریب ایسی قومیں ہوں گی جو قرآن پڑ ھیں گی اس کے ذریعہ لوگوں سے مانگیں گی(احمد،ترمذی)۳؎
شرح
۱؎ محدثین کی اصطلاح میں قاصّ پیشہ ور واعظ کو کہتے ہیں جو اپنی تقریر میں احکام شرعیہ بیان نہ کرے صرف شعر اشعار قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے اگرچہ قرآن شریف ہی کے قصے سنائے مگر احکام سے خالی جیسے آج کل کے عام بے علم واعظین یہ سب قاص ہیں واعظ نہیں کہ واعظ تو نصیحت کرنے والوں کو کہتے ہیں وہ نصیحت نہیں کرتا صرف پیسے مانگتا ہے حاجت مند کسی کو نصیحت نہیں کر سکتا۔ ۲؎ اس گناہ و بدعت و علامت قیامت کو دیکھ کر آپ کو سخت صدمہ ہوا اظہار رنج کے لیے آپ نے انا ﷲ پڑھی۔ ۳؎ یا تو اس طرح کہ دوران تلاوت میں جب آیت رحمت پر گزرے تو اس کے حصول کی دعا مانگ لے اور جب آیت عذاب تلاوت کرے تو اس سے پناہ مانگ لے یا اس طرح کہ تلاوت سے فارغ ہو کر دعا مانگے،معلوم ہوا کہ تلاوت سے فراغت پر خصوصًا ختم قرآن کے موقع پر دعا ضرور مانگی جائے۔