۱؎ آپ جلیل القدر تابعی بے مثل عالم اور بے نظیر فقیہ تھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے بڑا تو کیا ان جیسا عالم وفقیہ نہ دیکھا،سیا رنگ،ایک آنکھ،چپٹی ناک،ایک ہاتھ شل تھا،پاؤں سے لنگڑے تھے،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے،اٹھاسی سال عمر پائی ۱۱۵ھ میں وفات ہوئی،امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں اگر علم نسب یا دوسری خصوصیات سے ملتا توعطاء کو نہ ملتا کہ ان میں کوئی ظاہر خصوصیت نہ تھی مگر علم کے خزانے ان کے سینے میں تھے پاک ہے وہ جس کی عطاء کسی کے کمال پر موقوف نہیں۔شعر
داد حق را قابلیت شرط نیست بلکہ شرط قابلیت داد اوست
آپ نے حضرت ابن عباس،ابوہریرہ،ابوسعید خدری،جابر ابن عمر،عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے احادیث لیں اور ان سے فیوض حاصل کئے۔
۲؎ بعض بزرگ نماز فجر کے بعد سورہ یٰس کی تلاوت کرتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے،یہ عمل نہایت مجرب ہے اس کا عامل ان شاءاﷲ کبھی فقر و فاقہ یا دیگر آفات میں نہ پھنسے گا۔دفع حاجات کے لیے یہ سورہ اکسیر ہے۔