۱؎ اعتکاف عکف سے بنا بمعنی ٹھہرنا یا قائم رہنا رب تعالٰی فرماتاہے:"یَّعْکُفُوۡنَ عَلٰۤی اَصْنَامٍ لَّہُمْ" اورفرماتاہے:"وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ"۔شریعت میں بہ نیت عبادت مسجد میں خاص ٹھہرنے کو اعتکاف کہا جاتا ہے۔ اعتکاف بڑی پرانی عبادت ہے رب تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ و اسمعیل علیہما السلام سے فرمایاتھا:"اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالْعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ"۔اعتکاف تین قسم کاہے: اعتکاف فرض جیسے نذر مانا ہوا اعتکاف،اس میں روزہ شرط ہے اور اس کی مدت کم از کم ایک دن و رات ہے۔اعتکاف سنت،یہ بیسویں رمضان کی عصر سے عید کا چاند دیکھنے تک ہے۔ اعتکاف نفل اس میں نہ روزہ شرط ہے نہ اس کی مدت مقرر جب بھی مسجد میں جائے تو کہہ دے میں نے اعتکاف کی نیت کی جب تک مسجد میں رہوں۔ حق یہ ہے کہ رمضان کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے کہ اگر بستی میں کسی نے نہ کیا تو سب سنت کے تارک ہوئے اگر ایک نے بھی کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگیا مرد تو جماعت والی مسجد میں ہی اعتکاف کرسکتا ہے جہاں نماز پنجگانہ باجماعت ہوتی ہو مگر عورت اپنے گھر میں کوئی جگہ صاف و پاک کرکے وہاں ہی اعتکاف کرلے جسے مسجد خانہ کہتے ہیں(لمعات مرقات)وغیرہ۔