۱؎ میزر ازار سے بنا،بمعنی تہبند یا پائجامہ،لفظی معنے ہوئے اپنا تہبند باندھ لیتے۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ہے شاق کاموں کے لیے تیار ہوجاتے جیسے کہا جاتا ہے اٹھ باندھ کمر کیا بیٹھا ہے اور ہوسکتاہے کہ مقصد یہ ہو کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں ازواج پاک سے قطعًا علیحدہ رہتے اعتکاف کی وجہ سے بھی اور زیادہ عبادتوں میں مشغولیت کے سبب سے بھی۔
۲؎ یعنی اس عشرہ کی راتوں میں قریبًا تمام رات جاگتے تھے تلاوت قرآن ،نوافل،ذکر اﷲ میں راتیں گزارتے تھے اور ازواج پاک کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور انور نے تمام رات بیداری و عبادت کبھی نہ کیں۔خیال رہے کہ یہاں احیاءٌ سے مراد ہے عبادت کے لیے جاگنا اور لیلہ اس کا ظرف ہے یعنی رات بھر عبادت کے لیے جاگتے،ہوسکتا ہے کہ لیلہ مفعول بہ ہو یعنی رات کے اوقات کو اپنی عبادت سے زندہ کردیتے یا زندہ رکھتے جو وقت اﷲ کی یاد میں گزرے وہ زندہ ہے جو غفلت میں گزرے وہ مردہ۔جامع صغیر میں ہے کہ جو عشاء کی نماز جماعت سے پڑھے اس نے گویا شب قدر میں عبادت کی،طبرانی نے بروایت حضرت ابو امامہ روایت کی کہ جو نماز عشاء جماعت سے پڑھے وہ گویا آدھی رات عبادت گزار رہا اور جو فجر بھی جماعت سے پڑھ لے تو گویا وہ تمام رات عابد رہا۔