۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اس روزے سے مراد نفلی روزہ ہے اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث نفلی روزوں کے باب میں لائے۔تلاش رضاء الٰہی کی قید اس لیے ہے کہ کوئی عمل بغیر اخلاص نہ قبول ہو،نہ اس کا کوئی ثواب،نہ اس کے فوائد کا ظہور ہو۔اس میں اشارۃً بتایا جارہا ہے کہ جب ایک نفلی روزے کے ثواب کا یہ حال ہے تو اندازہ لگالو کہ فرضی روزے کا ثواب کتنا ہوگا۔
۲؎ کوّے کی طبعی عمر ایک ہزار سال ہے۔(مرقات)اور یہ بہت تیز اُڑتا ہے،یہاں دوزخ سے انتہائی دوری بتانے کے لیے بطور تمثیل ارشاد ہوا کہ کوّے کا بچہ اگر پیدا ہوتے ہی اُڑنا شروع کردے اور مرتے دم یعنی ایک ہزار سال تک برابر اڑتا رہے تو اندازہ لگالو کہ اپنے گھونسلے سے کتنی دور جالیگا،رب تعالٰی اس روزہ دار کو دوزخ سے اتنا دور رکھے گا۔حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں رب تعالٰی کی عطا ئیں ہمارے وہم و گمان سے وراء ہیں۔