۱؎ یعنی نفلی روزہ صرف ہفتہ کے دن نہ رکھو کیونکہ اس میں یہود سے مشابہت ہے کہ وہ اگرچہ اس دن روزہ تو نہیں رکھتے مگر اس کی تعظیم بہت ہی کرتے ہیں تمہارے اس روزے میں ان سے اشتباہ ہوگا۔جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے لہذا یہ حدیث ہفتہ کے دن کے روزے کی احادیث کے خلاف نہ ہوگی کہ وہ بیان جواز کے لیے ہیں اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیے۔اگر ہفتہ کے ساتھ اور دن کابھی روزہ رکھ لیا جائے تو نہ مشابہت رہے گی نہ ممانعت۔یہاں فرض سے مراد صرف شرعی فرض نہیں بلکہ بمعنی ضروری ہے لہذا رمضان،قضائے رمضان،نذر،کفارہ،عاشورے،گیارھویں،بارھویں وغیر ہ متبرک تاریخوں کے روزے اس دن میں رکھنا بلاکراہت جائز ہیں۔(مرقات ولمعات)
۲؎ یعنی ہفتہ کے دن اتفاقیہ فاقہ بھی نہ کرے اگر گھر میں کچھ کھانے پینے کو نہ ہو تو معمولی چیز نگل کر ہی فاقہ سے بچ جائے،یہ فرمان مبالغہ کے لیے ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہواور حدیث منسوخ ہو۔
۳؎ اس حدیث کو حاکم نے صحیح اور شرط بخاری پر کہا اور نووی فرماتے ہیں کہ محدثین نے اس کی تصحیح کی ہے،ابوداؤد فرماتے ہیں حدیث منسوخ ہے۔(مرقات)