Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
291 - 5479
حدیث نمبر 291
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن بسر سے وہ اپنی بہن صماء سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہفتہ کے دن بجز اس کے جو تم پر فرض ہو اور روزہ نہ رکھو ۱؎ اگر تم میں سے کوئی انگور کی چھال یا درخت کی لکڑی کے سواء کچھ نہ پائے تو وہ ہی چبائے ۲؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)۳؎
شرح
۱؎  یعنی نفلی روزہ صرف ہفتہ کے دن نہ رکھو کیونکہ اس میں یہود سے مشابہت ہے کہ وہ اگرچہ اس دن روزہ تو نہیں رکھتے مگر اس کی تعظیم بہت ہی کرتے ہیں تمہارے اس روزے میں ان سے اشتباہ ہوگا۔جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے لہذا یہ حدیث ہفتہ کے دن کے روزے کی احادیث کے خلاف نہ ہوگی کہ وہ بیان جواز کے لیے ہیں اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیے۔اگر ہفتہ کے ساتھ اور دن کابھی روزہ رکھ لیا جائے تو نہ مشابہت رہے گی نہ ممانعت۔یہاں فرض سے مراد صرف شرعی فرض نہیں بلکہ بمعنی ضروری ہے لہذا رمضان،قضائے رمضان،نذر،کفارہ،عاشورے،گیارھویں،بارھویں وغیر ہ متبرک تاریخوں کے روزے اس دن میں رکھنا بلاکراہت جائز ہیں۔(مرقات ولمعات)

۲؎ یعنی ہفتہ کے دن اتفاقیہ فاقہ بھی نہ کرے اگر گھر میں کچھ کھانے پینے کو نہ ہو تو معمولی چیز نگل کر ہی فاقہ سے بچ جائے،یہ فرمان مبالغہ کے لیے ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہواور حدیث منسوخ ہو۔

۳؎ اس حدیث کو حاکم نے صحیح اور شرط بخاری پر کہا اور نووی فرماتے ہیں کہ محدثین نے اس کی تصحیح کی ہے،ابوداؤد فرماتے ہیں حدیث منسوخ ہے۔(مرقات)
Flag Counter