Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
255 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
شرح
۱؎ فتح مکہ کے لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی بھی رمضان میں اور فتح فرمانا بھی رمضان میں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔

۲؎ یہ مشہور جگہ ہے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے،عسفان سے تین میل فاصلہ پر،چونکہ اس جنگل کانقشہ بکری کی پنڈلی کی طرح ہے اس لیے اسے کراع کہا جاتاہے۔غمیم بمعنی جنگل یعنی بکری کی پنڈلی کے نمونہ کا جنگل۔

۳؎ یعنی آج تک روزہ رکھا آج سے افطار شروع فرمایا،یہ مطلب نہیں کہ آج روزہ رکھ کر توڑ دیا جیساکہ ظاہر ہے۔

۴؎ یعنی صحابہ کرام میں سے بعض نے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر عمل کرکے روزہ نہیں رکھا ہے اور بعض نے اس خیال سے رکھ لیا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ اس سفر میں اب سے روزہ نہ رکھنا سنت اور روزہ رکھنا خلاف سنت ہے۔غرضکہ ان سے خطائے اجتہادی واقع ہوئی۔

۵؎ اس جملہ کی تکرار تاکید بلکہ تغلیظ کے لیے ہے یعنی یہ لوگ یقینًا سخت گنہگار ہیں دو وجہ سے:(۱)ایک یہ کہ میری موجودگی میں انہیں اجتہاد نہ کرنا چاہیے تھا بلکہ براہ راست مجھ سے مسئلہ پوچھ لینا چاہیے تھاکیونکہ اجتہاد حدیث نہ مل سکنے پر ہوتا ہے۔(۲)دوسرے یہ کہ آج سے روزہ نہ رکھنا میری سنت ہوچکا تھا لہذا ان کا روزہ رکھنا خلاف سنت ہوا اور سنت کی مخالفت یقینًا گناہ ہے۔فقیر کی اس تقریر سے یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ صحابہ کرام تو فسق سے پاک ہیں پھر وہ حضرات یہ گناہ کیسے کر بیٹھےکیونکہ ان بزرگوں نے نہ تو گناہ کی نیت سے یہ کام کیا تھا نہ بعد میں اس پر قائم رہے اور فسق کے لیے دونوں چیزیں ضروری ہیں اور یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ خطائے اجتہادی پر پکڑ نہیں اور نہ وہ گناہ ہے پھر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گنہگار کیوں فرمایا کیونکہ سرکار نے اپنی موجودگی میں ان کے اجتہاد کو گناہ قرار دیا کہ انہیں مجھ سے پوچھنا چاہئیے تھا،یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اس پر وہ حضرات گنہگار کیوں ہوگئے کیونکہ اس وقت سے افطار کرنا سنت ہوچکا تھا اور سنت کی مخالفت یقینًا گناہ ہے۔خیال رہے کہ عدم سنت اور ہے اور مخالفت سنت کچھ اور اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ روزہ نماز بذات خود ثواب کا باعث نہیں بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ثواب کا باعث ہے۔جو عبادت ان کی اتباع سے خالی ہوجائے وہ گناہ بن جاتی ہے،عید کے دن کا روزہ ،سورج نکلتے ڈوبتے نماز پڑھنا منع ہے ایسے ہی اب ان کے لیے روزہ گناہ ہوگیا۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے پر مکہ معظمہ میں رہنا گناہ ہوگیا تھا۔

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عوف سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سفر میں رمضان کے روزے رکھنے والا ایسا ہے جیسے گھر میں افطار کرنے والا ۱؎(ابن ماجہ)
Flag Counter