۱؎ یہ انس ابن مالک وہ مشہور انس نہیں جو ابوطلحہ انصاری کے سوتیلے بیٹے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خادم ہیں وہ تو انصاری نجاری خزرجی ہیں،بہت سی احادیث کے راوی ہیں بلکہ یہ انس ابن مالک عبداﷲ ابن کعب کی اولاد سے ہیں اسی لیے کعبی کہلاتے ہیں،ان سے بہت ہی کم احادیث یعنی صرف یہ ہی مروی ہے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ بیس صحابہ کے نام انس ہیں جن میں سے دو کے نام انس ابن مالک ہیں:ایک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص بہت سی احادیث کے راوی،دوسرے یہ،ان کا قیام بصرہ میں رہا۔
۲؎ اس طرح کہ مسافر پر نماز میں قصر واجب ہے صرف جائز نہیں جیساکہ ہم مسافر کے باب میں ثابت کرچکے ہیں اور اپنی کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں بہت دلائل سے بیان کرچکے ہیں۔
۳؎ یعنی ان تین شخصوں سے روزہ کا فوری وجوب معاف ہوچکا ہے اگر چاہیں تو قضا کردیں۔خیال رہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت پر بھی روزے کی قضاء ہی واجب ہے وہ فدیہ نہیں دے سکتیں،یہ ہی ہم احناف کا مذہب ہے یہ دونوں اس حکم میں مسافر کی طرح ہیں،نیز ان دونوں عورتوں کو قضاء کی اجازت جب ہے جب کہ انہیں روزہ سے اپنے بچہ پر خوف ہو۔اشعہ نے فرمایا کہ مالدار عورت جس کا بچہ دودھ پیتا ہو وہ بچہ کے لیے دودھ پلائی رکھے اور خود روزہ رکھے۔
روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے پاس سواری ہو جو اسے بحالت سیری منزل تک پہنچادے ۲؎ وہ رمضان کے روزے رکھے جہاں پائے ۳؎ (ابوداؤد)۴؎