۱؎ بغیر اسناد حدیث بیان کرنے کو تعلیق کہتے ہیں،تعلیقات بخاری سب مقبول و معتبر ہیں کیونکہ امام بخاری اسی جگہ اسناد چھوڑتے ہیں جہاں انہیں حدیث کی صحت کا یقین ہوتا ہے جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے تو ثقہ تابعین کا ارسال بھی قبول ہے بلکہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا فرما دینا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا بالکل قبول ہے یہ حضرات امام بخاری سے زیادہ رتبہ والے ہیں۔
۲؎ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ آپ جوانی اور طاقت کے زمانہ میں روزہ میں فصد لے لیتے تھے کہ اس وقت آپ کو ضعف کا اندیشہ نہ تھا پھر بڑھاپے اور کمزوری میں یہ عمل چھوڑ دیا کیونکہ فصد لے کر روزہ پورا کرنا دشوار تھا۔