۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ ماہ رمضان میں واقع ہوتا تھا جب کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ بھی روزہ دار ہوتی تھیں اس لیے معلوم ہوا کہ روزہ دار اگر اپنے نفس پر قادر ہو تو اپنی بیوی کا بوسہ بھی لے سکتا ہے اور اس کی زبان بھی چوس سکتا ہے بشرطیکہ ایک دوسرے کا تھوک دوسرے کے منہ میں نہ جاوے،اگر جائے تو نگلے نہ بلکہ تھوک دے،یہ مسئلہ بتانے کے لیے حضرت ام المؤمنین یہ واقعہ بیان فرمارہی ہیں۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ طبیب بیان علاج میں بڑی بڑی خفیہ باتیں بیان کردیتے ہیں اس بیان میں شرم نہیں کرتے اگر شرم کریں تو علاج کیسے ہو،اسی طرح یہ حضرات مسئلہ شرعی بیان کرنے کے لیے بلاحجاب خفیہ باتیں بیان فرمادیتے ہیں اگر شرم کریں تو دینی مسائل کیونکر واضح ہوں اور لوگوں کو ہدایت کیسے ملے۔
۲؎ مرقاۃ،اشعۃ اللمعات وغیرہ نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس کی اسناد میں سعد ابن اوس بصری اور محمد ابن دینار ہیں،سعد ابن اوس تو ضعیف ہیں اور زبان چوسنے کی روایت سوائے محمد ابن دینار کے کسی نے نہ کی اور محمد ابن دینار بھی ضعیف ہیں۔