Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
173 - 5479
باب صدقۃ المرأة من مال الزوج

باب خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  اگرچہ باب میں صرف بیوی کا ذکر ہے مگر اس میں خازن نوکر چاکر سب شامل ہیں اسی لیے اس باب میں خازن کے خرچ کردینے کا بھی ذکر ہوگا،چونکہ عمومًا بیویاں ہی خاوند کے مال سے خیرات کیا کرتی ہیں خازن تو کسی کسی کے پاس ہوتے ہیں اس لیے بیویوں کا ذکر ہوا۔
حدیث نمبر 173
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات کرے بشرطیکہ بربادی کی نیت نہ ہو تو اسے خیرات کرنے کا ثواب ہوگا ۱؎ اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب اور خزانچی کو بھی اس کے برابر جن میں کوئی دوسرے کے ثواب سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اگرچہ حدیث پاک میں کھانے کی خیرات کا ذکر ہے مگر اس میں تمام وہ معمولی چیزیں داخل ہیں جن کے خیرات کرنے کی خاوند کی طرف سے عادۃً اجازت ہوتی ہے جیسے پھٹا پرانا کپڑا،ٹوٹا جوتا وغیرہ اور کھانے میں بھی عام کھانا روٹی سالن داخل ہے جس کو خیرات کرنے سے خاوند کی طرف سے ناراضی نہیں ہوتی،اگر خاوند نے کوئی خاص حلوہ یا معجون اپنے گھر کے لیے بہت روپیہ خرچ کرکے تیار کی ہے تو اس میں سے خیرات کی عورت کو اجازت نہیں۔مرقات نے فرمایا یہاں خرچ کرنے میں بچوں پر خرچ،مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ،بھکاری فقیر پر خرچ سب ہی شامل ہے مگر شرط یہ ہی ہے کہ مال بربادکرنے کی نیت نہ ہو بلکہ حصول ثواب کا ارادہ ہو اور اتنا ہی خرچ کرے جتنے خرچ کردینے کی عادت ہوتی ہے۔

۲؎  یہاں اصل ثواب میں سب برابر ہیں اگرچہ مقدار ثواب میں فرق ہے۔کمانے والے کا ثواب ان سب میں زیادہ ہوگا لہذا یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں عورت کے لیے آدھا ثواب فرمایا گیا ہے کہ یہاں اصل ثواب میں برابر مقصود ہے اور وہاں مقدار ثواب میں فرق ہے۔
Flag Counter