Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
138 - 5479
حدیث نمبر 138
روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ام سعد وفات پا گئیں تو اب کون سا صدقہ بہتر ہے ۱؎ فرمایا پانی ۲؎ لہذا سعد نے کنواں کھدوایا اور فرمایا یہ کنواں ام سعد کا ہے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎  یعنی میں کونسا صدقہ دے کر ان کی روح کو اس کا ثواب بخشوں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعد وفات میت کو نیک اعمال خصوصًا مالی صدقہ کا ثواب بخشنا سنت ہے،قرآن کریم میں جو فرمایا گیا:"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"یا فرمایا گیا"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"۔جن سے معلوم ہوا کہ انسان کو صرف اپنی کی ہوئی نیکیاں فائدہ مند ہیں وہاں بدنی فرائض مراد ہیں اسی لیے وہاں کسبت یا سعٰی ارشاد ہوا یعنی کوئی کسی کی طرف سے فرض نمازیں ادا نہیں کرسکتا ثواب ہر عمل کا بخش سکتے ہیں لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں،قرآن کریم سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ نیکوں کی برکت سے بُروں کی آفتیں ٹل جاتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صٰلِحًا"۔

۲؎ یعنی ان کی طرف سے پانی کی خیرات کرو کیونکہ پانی سے دینی دنیوی منافعے حاصل ہوتے ہیں خصوصًا ان گرم و خشک علاقوں میں جہاں پانی کی کمی ہو،بعض لوگ سبیلیں لگاتے ہیں،عام مسلمان ختم فاتحہ وغیرہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ پانی بھی رکھ دیتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ پانی کی خیرات بہتر ہے۔

۳؎  یعنی ام سعد کی روح کے ثواب کے لیے ہے۔یہ لام نفع کا ہے نہ کہ ملکیت کا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ثواب بخشتے وقت ایصال ثواب کے الفاظ زبان سے ادا کرنا سنت صحابہ ہے کہ خدایا اس کا ثواب فلاں کوپہنچے۔دوسرے یہ کہ کسی چیز پر میت کا نام آجانے سے وہ شئے حرام نہ ہوگی،دیکھو حضرت سعد نے اس کنوئیں کو اپنی مرحومہ ماں کے نام پر منسوب کیا،وہ کنواں اب تک آباد ہے اور اس کا نام بیرام سعد ہی ہے،فقیر نے اس کا پانی پیا ہے۔یہ"وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِ"کے خلاف نہیں کہ وہاں وہ جانور مراد ہیں جو غیر خدا کے نام پر ذبح کئے جائیں۔خیال رہے کہ یہ حدیث چند اسنادوں سے مروی ہے۔چنانچہ ابوداؤد کی ایک اسنا دمیں یوں ہے"عَنْ اَبِیْ  عَنْ اِسْحَاقَ الْبُسَّیْعِیْ عَنْ رَجُلٍ  عَنْ سَعْدِ ابْنِ عُبَادَۃَ"۔چونکہ اس میں عَنْ رَجُلٍ آگیا لہذا یہ اسناد مجہول ہوگئی۔دوسری اسناد یوں ہے "عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ اَنَّ سَعْدًا اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ"الخ۔یہ اسناد ابوداؤد و نسائی ابن حبان میں بھی ہے۔تیسری اسنادیوں ہے"عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ الْمَسَیَّبِ وَالْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ کِلَاھُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ"یہ دونوں اسنادیں منقطع ہیں کیونکہ سعید ابن مسیب اور حسن بصری کی ملاقات حضرت سعد ابن عبادہ سے نہ ہوئی۔(ازمرقات)مگر یہ انقطاع و جہالت کوئی مضر نہیں چند وجہوں سے:ایک یہ کہ حدیث اس بنا پر زیادہ سے زیادہ ضعیف ہوسکتی ہے اور یہ حدیث ضعیف فضائل اعمال اور ثبوت استحباب میں کافی ہوتی ہے دیکھو کتب فقہ اور شامی وغیرہ ایصال ثواب فرض یا واجب نہیں صرف سنت مستحبہ ہے۔دوسرے یہ کہ یہ کسی حدیث صحیح کے متعارض نہیں،کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ ایصال ثواب حرام ہے تاکہ یہ حدیث چھوڑ دی جائے۔تیسرے یہ کہ اس حدیث کی تائید بہت سی احادیث صحیحہ سے ہوتی ہے۔چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایک قربانی اپنی امت کی طرف سے کرتے تھے اور فرماتے تھے الٰہی اسے قبول کرلے امت مصطفٰے کی طرف سے۔(مسلم،بخاری)اور سیدنا علی مرتضٰے ہمیشہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتے رہے، فرماتے تھے مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔(ابوداؤد،ترمذی)چوتھے یہ کہ اس حدیث کی تائید قرآنی آیات سے بھی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ فِیۡۤ اَمْوٰلِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ"اور فرماتاہے:"وَیَتَّخِذُ مَا یُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ"۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول اور فہرست القرآن میں ملاحظہ کیجئے۔پانچویں یہ کہ ہمیشہ سے سارے مسلمان ایصال ثواب پر عمل کرتے رہے اور عمل امت کی وجہ سے حدیث ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے،دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم اور شامی وغیرہ۔چھٹے یہ کہ جب امام بخاری کی تعلیق قبول جس میں وہ اسناد بیان ہی نہیں کر تے سیدھے کہہ دیتے ہیں قال ابن عباس کیونکہ امام بخاری ثقہ ہیں تو حضرت سعید ابن مسیب اور خواجہ حسن بصری کا انقطاع بھی قبول کیونکہ یہ دونوں حضرات امام بخاری سے کم ثقہ نہیں بلکہ اپنے یقین کامل کی بنا پر براہ راست حضرت سعد کا واقعہ بیان کردیا۔
Flag Counter