۱؎ یعنی وہ درخت خاردار تھا یا بے خار اس کی جڑ راستہ کے کنارہ پر تھی مگر شاخیں راستہ پر پھیلی ہوئی تھیں اس نے تکلیف دور کرنے کے لیے اسے جڑ سے ہی اکھیڑ دیا تاکہ آئندہ بھی شاخیں نہ پھیل سکیں اگر یہ درخت اس کی اپنی ملکیت تھا یا خود رو تھا تب تو اس کے کاٹ دینے اور اس کی لکڑی گھر لے جانے پر کچھ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگرکسی غیر کی ملکیت تھا تو اس نے فقط دفع ایذاء کے لیے کاٹ دیا ہوگا اس کی لکڑی پر قبضہ نہ کیا ہو گا۔اس صورت میں اس حدیث سے مسئلہ مستنبط ہوگا کہ موذی چیز کو ختم کردینا جائز ہے اگرچہ دوسرے کی ملکیت ہو،دیوانہ کتا جو کسی کا پالتو تھا،سرکس والوں کا بھاگا ہوا شیر،سپیروں کا چھوٹا ہوا سانپ ماردیئے جائیں،راستہ میں کھودا ہوا کنواں پاٹ دیا جائے اس میں مالک کی اجازت کی ضرورت نہیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت میں یا شب معراج میں دیکھا یا نماز کسوف میں جب آپ پر جنت پیش کی گئی یا عام حالت میں۔