Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
129 - 5479
حدیث نمبر 129
روایت ہے حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی گئی ۱؎ جسے اس نے باندھے رکھا حتی کہ بھوک سے مرگئی اسے نہ کھانا دیتی تھی اور نہ چھوڑتی تاکہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اس کے لیے عذاب جہنم کا حکم ہوگیا یا اس پر کوئی دنیوی عذاب نازل ہوا یا عذاب قبر میں گرفتار ہوئی ورنہ دوزخ کا عذاب تو بعد قیامت ہوگا،اسی عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں دوزخ میں جلتے دیکھا مگر وہ اس لیے نہیں کہ وہ دوزخ میں پہنچ چکی تھی بلکہ اس لیے کہ نگاہ انبیاء قیامت کے بعد ہونے والے واقعات کو بھی دیکھ لیتی ہے۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ پالے ہوئے جانور کا بھی حق ہے کہ اسے کھانا پانی دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جانوروں پر ظلم بھی گناہ ہے۔علامہ شامی فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم انسان کے ظلم سے بدتر ہے کیونکہ انسان زبان والا ہے اپنے دکھ دوسروں سے کہہ سکتا ہے بے زبان جانور خدا کے سواء کس سے کہے۔ تیسرے یہ کہ کبھی گناہ صغیرہ پر بھی عذاب ہوجاتا ہے،کبائر سے بچے یا نہ بچے،رب تعالٰی کا یہ فرمان"اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ"۔اس میں بخشش کا حتمی وعدہ نہیں ہے بلکہ امید دلائی گئی ہے اور یہ بخشش رب تعالٰی کی مشیت پر موقوف ہے کیونکہ دوسری آیت میں رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"لہذا نہ تو آیات میں تعارض ہے اور نہ یہ حدیث کسی آیت کے خلاف۔بعض علماء نے اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیا کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے کیونکہ اس عورت کا بلی کو ایک دن کھانا پانی نہ دینا گناہ صغیرہ تھا مگر متواتر عرصہ تک نہ دینے سے کبیرہ بن گیا مگر اس حدیث سے یہ استدلال ضعیف ہے اس کے لیے تو قرآنی آیت موجود ہے"وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا"۔
Flag Counter