۱؎ یعنی اگر تم امیر ہو اور تمہاری پڑوسن غریب اور وہ غریب اپنی محبت سے کوئی معمولی چیز بطور ہدیہ بھیجے تو نہ اسے واپس کردو اور نہ اسے نگاہ حقارت سے دیکھو بلکہ خوشی سے قبول کرو کہ اس کا دل خوش ہوجائے اﷲ تعالٰی اخلاص کا ایک پیسہ بھی قبول فرمالیتا ہے۔اس حدیث کا مطلب اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے یعنی کوئی عورت اپنی پڑوسن کو معمولی ہدیہ دینے میں نہ ہچکچائے جو کچھ جُڑے بنے دیتی رہےکہ ہدیوں سے محبتیں بڑھتی ہیں،چونکہ چیزوں میں عیب نکالنے کی عادت زیادہ عورتوں میں ہوتی ہے اس لیے انہی سے خطاب کیا گیا،یہ حدیث ہم غریبوں کے لیے بڑی ہمت افزا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں کے معمولی ہدیہ ثواب وغیرہ کو بھی ردّ نہیں فرماتے۔