| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤمن کو موت آتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشم لےکر آتے ہیں ۱؎ کہتے ہیں نکل تو راضی،تجھ سے رب راضی اﷲ کی طرف سے راحت،روحانی رزق اور راضی رب کی طرف چل تو وہ بہترین مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے۲؎ حتی کہ بعض فرشتے بعض کو وہ روح دیتے ہیں اسے آسمان کے دروازوں تک لاتے ہیں۳؎ آسمان والے کہتے ہیں یہ کیا اچھی خوشبو ہے جو زمین سے تمہیں آئی پھر اسےمسلمانوں کی روحوں کے پاس لاتے ہیں مؤمنین اس کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جیسےتم میں سےکوئی گمشدہ آدمی کے آجانے سے خوش ہوئے۴؎ اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں کیاکرتا ہے فلاں کیاکرتاہے پھر کہتے ہیں اسے چھوڑو یہ دنیا کے غم میں تھا ۵؎ یہ کہتاہے کہ وہ مرگیا کیاتمہارے پاس نہ آیا وہ کہتے ہیں کہ اسے ام ہاویہ میں پہنچادیا گیا ہے ۶؎ اور کافر کی موت جب آتی ہے تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے ٹاٹ لےکر آتے ہیں ۷؎ کہتے ہیں نکل تو رب سے ناراض تجھ پر رب ناراض اﷲ کے عذاب کی طرف چل تو وہ مردار کی سخت بدبو کی طرح نکلتی ہے حتی کہ اسے زمین کے دروازے تک لاتے ہیں۸؎ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسی سخت بدبوہے یہاں تک کہ اسے کفار کی روحوں میں پہنچا دیتے ہیں ۹؎(احمد،نسائی)
شرح
۱؎ روح کو لپیٹنے کے لیے جنت کالباس لاتے ہیں یعنی مؤمن کے جسم کا کفن یہاں کا کپڑا ہوتا ہے اور روح کا کفن جنت کا۔ ۲؎ یعنی اس کے جسم سے نکلتے وقت بہترین مشک کی خوشبومہکتی ہے جسے فرشتے محسوس کرکے خوش ہوتےہیں۔خیال رہے کہ مؤمن کی روح ہر وقت خوشبودار ہے مگر اس خوشبو کے ظہور کا وقت یہ ہے۔اصحمہ نجاشی کی قبر سے بہت روز تک مشک کی تیز خوشبو نکلتی رہی جیسا کہ مشکوٰۃ شریف میں آئے گا،حضرت سلیمان جزولی صاحب دلائل الخیرات کی قبر سےبھی بہت روز تک خوشبو مہکی،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے جسم،لباس،پسینہ کی خوشبوؤں سے کلیاں مہک جاتی تھیں یہ اسی روحانی خوشبو کاظہور تھا۔ ۳؎ یعنی جیسے جسم میت کو قبرستان لے جاتے ہوئے لوگ کندھے بدلتے ہیں ایسے ہی اس روح کو آسمان پر لے جاتے ہوئے فرشتے ہاتھ بدلتے ہیں مگر تھک کرنہیں بلکہ اظہارعزت کے لیے۔ ۴؎ یعنی اس روح کو مسلمان روحوں کے ٹھکانوں پرپہنچاتےہیں۔اعلیٰ علیین،جنت،دروازۂ جنت اورعرش اعظم کے نیچے جہاں کے یہ لائق ہو ورنہ مؤمنین کی روحیں اس کے نزع کے وقت وہاں موجودتھیں۔بعض بزرگوں نے بحالت نزع اپنے فوت شدہ اہل قرابت کے آنے کی خبر دی ہے،یہ پہنچانا ان کے ساتھ رکھنے کے لیے ہوتا ہے اسی لیے انہیں خوشی ہوتی ہے۔ ۵؎ یعنی یہ مؤمن روحیں اسی جانے والی روح کوگھیرکر اپنے زندہ دوستوں کے حالات پوچھتی ہیں،پھر انہیں میں سے بعض روحیں پوچھنے والوں سےکہتی ہیں کہ سوال و جواب ختم کرو اسے آرام کرنے دو یہ ابھی دنیوی تکالیف اورشدت نزع سے چھوٹ کر آیاہے۔خیال رہے کہ روحوں کا یہ سوال اشتیاق کی وجہ سے ہوتا ہے ورنہ مؤمن روحیں اپنے زندوں کے حالات سےخبردار رہتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ"۔زیارت قبور کے آخر میں ان شاءاﷲ آئے گا کہ مؤمن روحیں ہرجمعرات کو اپنے گھر آکر زندوں سے ایصال ثواب کی درخواست کرتی ہیں،نیز زیارت قبورکرنے والوں کو پہچانتی ہیں اورقبرستان گزرنے والے سے دعا کی درخواست کرتی ہیں۔ ۶؎ یعنی انہی روحوں میں سے کوئی کسی کے بارے میں سوال کرتی ہے تو یہ جانے والی روح کہتی ہے کہ وہ تو مرچکا تمہارے پاس پہنچا نہیں تو اسی پوچھنے والی جماعت کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ وہ کافر ہوکر مرا،ہاویہ میں گیاہمارے پاس کیسے آتا۔اس جواب سےبھی معلوم ہورہا ہے کہ یہ روحیں دنیا والوں کے حالات اور ان کے اچھے برے خاتمہ سے خبردار ہیں۔خیال رہے کہ یہاں امّ بمعنی اصل اورٹھکانہ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ"یعنی وہ اپنے ٹھکانے ہاویہ میں گیا۔ ۷؎ دوزخ کا ٹاٹ لاتے ہیں تاکہ اس میں اس روح کو لپیٹیں یہ اس کا کفن ہے۔ ۸؎ اس عبارت میں سماء پوشیدہ ہے یعنی زمین آسمان کے دروازے پر پہلے آسمان جسے سماء ارض کہا جاتا ہے یا زمین سے مراد اس کا ساتواں طبقہ ہے جس کے نیچےسجین ہے کفار کا ٹھکانہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جس کی تائید اگلے مضمون سے بھی ہورہی ہے۔ ۹؎ سجّین میں جہاں پہلے ہی ارواح کفار قید ہیں مگر یہاں کوئی کسی سے پوچھ گچھ نہیں کرتا ہر ایک اپنے حال میں گرفتار ہے۔