| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے انہی سےکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب مسلمان کی روح نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے ملتے ہیں جو اسے چڑھا لے جاتےہیں ۱؎ حماد نے کہاحضور نے اس کی عمدہ خوشبو کا اورمشک کا ذکر فرمایا ہے۲؎ فرمایا کہ آسمان والے کہتے ہیں پاک روح زمین کی طرف سے آئی اﷲ تجھ پر اور اس جسم پر رحمتیں کرے جسے تو آبادکرتی تھی۳؎ پھر اسے رب کے پاس لے جاتےہیں رب فرماتا ہے کہ اسے آخر وقت تک کے لیئے وہیں پہنچادو۴؎ فرمایا کہ جب کافر کی روح نکلتی ہے حماد فرماتے ہیں کہ حضور نے اس کی بدبو اورلعنت کا ذکر فرمایا آسمان والے کہتے ہیں خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی تو کہاجاتاہے اسے معیاد تک کے لیئے لےجاؤ،ابوہریرہ فرماتےہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرچادرتھی اسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اپنی ناک سے لگالیا ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ غالبًا یہ دو فرشتے اس کے اعمال لکھنے والے ہیں،روح ان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،باقی کچھ اور فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جہاں بہت سے فرشتوں کے لے جانے کا ذکرہے۔ ۲؎ یعنی اس روح کی خوشبو کو مشک اعلیٰ سےتشبیہ دی جو ان فرشتوں کو اور باقی دوسرے فرشتوں کومحسوس ہوتی ہے،کبھی حاضرین انسانوں نےبھی اس کا احساس کیا کہ جان نکلنے پر اعلیٰ درجے کی مہک آئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ مؤمن کی روح مہکتی ہے،کبھی اچانک غیبی خوشبومحسوس ہوتی ہے،بزرگ فرماتے ہیں کہ اس وقت کسی پاک روح کا وہاں سے گزرہوتا ہے ایسےموقعہ پر درود شریف پڑھنا چاہیے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کے پاس باب جبریل سے متصل بہت دفعہ خوشبو محسوس کی گئی۔ ۳؎ غیر نبی پر درود مستقلًا پڑھنا ہمارے لیے منع ہے،یعنی ہم کسی کو صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہہ سکتے۔فرشتوں کا یہ درود اس روح پر پڑھناان کی خصوصیت ہے جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم صدقہ لانے والے کو فرماتے"اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی فُلَانٍ"ہمارے احکام اور ہیں ان کے احکام کچھ اور۔ ۴؎ یعنی قیامت تک اسے برزخ میں رکھو،برزخ موت اورقیامت کے درمیانی وقت کانام ہے،اس وقت میں روحیں مختلف جگہ رہتی ہیں کوئی روح جنت میں اعلیٰ علیین میں،کوئی چاہ زمزم میں،کوئی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قرب حضوری میں،یہاں کی یہ عبارت ان سب کو شامل ہے مگر روح جہاں بھی ہوجسم اورقبرسےتعلق ضرور رکھتی ہے اسی لیے قبر پر جاکر سلام،فاتحہ پڑھتے ہیں۔ ۵؎ یعنی حضرت ابوہریرہ نے اپنی چادر ناک پر لگاکر فرمایا کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے یوں چادرکی تھی۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت سرکار کی ناک نے کسی کافر روح کی بدبومحسوس فرمائی تھی آپ کا یہ عمل اس بنا پر تھا۔کبھی بزرگوں کے حواس دور کی چیزمحسو س کرلیتے ہیں،یعقوب علیہ السلام نے کنعان بیٹھے ہوئے مصر سے روانہ ہونے والی قمیض یوسفی کی خوشبو محسوس کرکے فرمایا:"اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ"۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عمل شریف بطورتمثیل کیا یعنی اگر تم وہ بدبو پاؤ تو ایسے ناک ڈھک لو مگر پہلی توجیہ قوی ہے۔