| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ۱؎ اگر آدمی نیک ہوتاہے تو اس سے کہتے ہیں اے پاک روح نکل جو پاک جسم میں تھی ۲؎ نکل قابلِ تعریف خیریت،راحت اور پاک رزق اور راضی رب کی بشارت حاصل کر اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہے۳؎ پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے اس کے لیئے آسمان کھولاجاتاہے کہاجاتاہے یہ کون ہے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے تو کہاجاتاہےکہ خوب آئی پاک روح جو پاک جسم میں تھی داخل ہوقابلِ تعریف ہے اور خیریت،راحت،پاک رزق اور راضی رب کی بشارت لے اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اﷲ کی تجلی ہے۴؎ اور جب آدمی برا ہوتاہے ۵؎ تو کہتے ہیں کہ اے خبیث جان نکل جوخبیث جسم میں تھی ۶؎ نکل قابلِ ملامت ہوکر اورکھولتے پانی پیپ اور اس کے ہمشکل دوسرے عذابوں کی بشارت لے۷؎ اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہےپھر اسے آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے تو اس کے لیئے آسمان کھلوایاجاتاہے پوچھاجاتا ہے یہ کون ہے کہاجاتاہے فلاں تو کہاجاتاہے اس کے لیئے مرحبا نہیں،خبیث جان ہے جوخبیث جسم میں تھی ملامت کی ہوئی لوٹ جاکیونکہ تیرے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھل سکتے۸؎ پھر اسے آسمان سے پھینکاجاتاہےحتی کہ قبرمیں آجاتی ہے۹؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی ملک الموت اور انکے ساتھی مؤمن کے پاس رحمت کے فرشتے استقبال کے لیے اور کافر کے پاس عذاب کے فرشتے گرفتاری کے لیے ان کے علاوہ ہوتے ہیں۔ ۲؎ نفس اور روح میں فرق اعتباری ہے مظہرشرکو نفس کہتے ہیں"اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ"اورمظہرخیرکو روح"قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ"۔یہاں طیبہ کی صفت سےنفس میں خوبی کےمعنی پیداہوگئے۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ نفس طیب سے اچھے عقائد کی طرف اورجسم طیب سے اچھے اعمال کی طرف اشارہ ہے یعنی تیرے عقائدبھی اچھے اور اعمال بھی صالح۔ ۳؎ معلوم ہوا کہ مؤمن صالح کی روح کھینچ کرنکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ بشارتیں سن کر خودبخود ہی خوش ہوتی نکل آتی ہے۔ ع یار خنداں رود بجانب یار۔ ۴؎ یعنی ہر آسمان پر اس کا استقبال ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آسمانی فرشتے ہر انسان کا نام اور اس کے اعمال جانتے ہیں ورنہ انہیں محض نام بتانا بالکل بیکار ہوتا۔آسمان میں اﷲ کے ہونے سے مراد اس کی تجلی،اس کے نور وغیرہ کا ہونا ہے،ورنہ رب تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے،مکان جسم یاجسمانیات کے لیے ہوتا ہے۔غالبًا اس آسمان سے عرش اعظم مراد ہے کہ وہ بھی ایک آسمان ہی ہے۔ ۵؎ برے سے مراد کافر ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ ہے کہ مؤمن متقی اور کافر کے حالات بیان فرماتے ہیں،مؤمن فاسق کا پردہ رکھتے ہیں کرم نوازی سے۔ ۶؎ یعنی تیرے عقائدبھی برے تھے،اعمال بھی گندے۔خیال رہے کہ اگر کافر اچھے اعمال صدقہ و خیرات بھی کرے جب بھی اس کاجسم گندا ہی ہے،کتا سمندرمیں نہانے سےبھی گندا ہی ہوتاہے،نیز نیک اعمال درستی عقیدہ کےبغیرقبول نہیں۔ ۷؎ اس خبرکو بشارت فرمانا طنز وطعن کے طور پر ہے،رب فرماتاہے:"فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ"۔خیال رہے کہ کافر کو یہ عذاب بعدقیامت دوزخ میں پہنچ کر ہوں گے،ہاں دوزخ کی گرمی،تپش،دھواں برزخ میں بھی پہنچتا رہے گا۔ ۸؎ یعنی روح لے جانے والے فرشتے آسمانوں کے دروازے کافر کی روح کے لیے کھلواتے ہیں مگر وہاں کے دربان کھولتے نہیں،یہ کھلوانا بھی اسے ذلیل کرنے کو ہے،ورنہ یہ فرشتے جانتے ہیں کہ اس کے لیے دروازہ کھلے گا نہیں۔ ۹؎ یہاں قبر سے مراد مقام سجّین ہے جو ساتویں آسمان کے نیچے ہے جہاں یہ روح قیدکردی جاتی ہے،اس قید کے باوجود اس کاتعلق اپنےجسم کے اجزائے اصلیہ سے رہتاہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض کفار جلادیئے جاتے ہیں ان کی قبر کہاں۔