۱؎ حصین ابن وحوح صحابی ہیں،انصاری ہیں،آپ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
۲؎ اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ میت کے لیے اعلان عام کرنا بھی جائز ہے اور خاص بزرگ و اہل قرابت کو خبرکرنابھی تاکہ وہ نماز اور دفن میں شرکت کرلیں۔دوسرے یہ کہ حتی الامکان دفن میں جلدی کی جائے،بلاضرورت دیر لگاناجیسا کہ ہمارے پنجاب میں رواج ہے سخت ناجائزہے کہ اس میں میت کے پھولنے پھٹنے اور اسکی بےحرمتی کا اندیشہ ہے،مگر اس حکم سے انبیاءکرام مستثنٰی ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا دفن شریف وفات سے تین دن بعدہوا،مسئلہ خلافت پہلے طے کیا گیا تاکہ زمین خلیفۃ اﷲ سے خالی نہ رہے،بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دفن وفات سے چھ ماہ یا ایک سال بعد ہوا۔(قرآن شریف)خیال رہے کہ یہاں حیفہ بمعنی مردہ ہے نہ کہ مردار جیسے قرآن کریم میں ہے"کَیۡفَ یُوٰرِیۡ سَوْءَۃَ اَخِیۡہِ"لہذا اس لفظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مردہ نجس ہوتا ہے۔