| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ وہی کہے جس کا اﷲ نے حکم دیا کہ ہم اﷲ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں الٰہی مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہتر بدل عطاکر مگر اﷲ اسے بہترعوض دیتا ہے ۱؎ جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں بولی کہ ابوسلمہ سے بہتر کون مسلمان ہوگا وہ تو پہلے گھر والے ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی پھر میں نے یہ دعا کہہ ہی لی چنانچہ اﷲ نے مجھے ان کے عوض رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ عمل بڑا مجرب ہے فوت شدہ میت اور گمشدہ چیز سب پر پڑھا جائے لیکن جس گمی چیز کے ملنے کی امید ہو اس پر راجعون تک پڑھے اور جس سے مایوسی ہوچکی ہو اس پر پورا پڑھے،مگر ضروری یہ ہے کہ زبان پر الفاظ ہوں اور دل میں صبر۔(ازمرقات) ۲؎ ابوسلمہ حضرت ام سلمہ کے پہلے خاوند تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے اور پھوپھی کے بیٹے بھی آپ نے مع گھر بار پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر مدینہ پاک کی جانب مع گھر بار ہجرت کرنے میں آپ اول ہیں اسی لیے آپ نے اَوَّلَ بَیْتٍ فرمایا۔ام سلمہ کی نگاہ میں ان خصوصیات کے لحاظ سے ابوسلمہ جزوی طور پر سب سے بہتر تھے اس لیے آپ نے یہ خیال کیا،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ خلفائے راشدین تو ابو سلمہ سے افضل تھے یعنی ایمان کہتا تھا کہ اس دعا کی برکت سے مجھے ان سے بہتر خاوند ملے گا مگرعقل وسمجھ کہتی تھی ناممکن ہے،میں نے عقل کی نہ مانی،ایمان کی مانی اور دعا پڑھ لی۔اس کی برکت سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئی جن پر لاکھوں ابوسلمہ قربان۔