| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات بولو ۱؎ کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ غالبًا یہ شک راوی کو ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض فرمایا یا میت۔مریض سے مراد قریب الموت مریض ہے،خیر سے مراد دعائے شفا اور دعائے مغفرت ہے۔اور اس سےمعلوم ہوا کہ ایسی حالت میں حاضرین دنیوی کلام نہ کریں،آخر وقت تک دعائے شفا کرسکتے ہیں،اعلیٰ حضرت رحمۃ اﷲ علیہ نے وصیت کی تھی کہ میری جانکنی کے وقت اس حجرے میں ناپاک انسان،کتا،جاندار کا فوٹو یعنی نوٹ روپیہ پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو۔ ۲؎ یعنی ملک الموت اور ان کے ساتھی ہر اس بات پر آمین کہہ دیتے ہیں جوتمہارے منہ سے نکلتی ہے۔